’پیٹرول کا 30 لیٹر کین، کانچ کی 15 بوتلیں، روئی کے دو گولے، پانچ ماچس اور 25 ڈنڈے‘، علیمہ خان پر نیا مقدمہ
تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی بہنوں اور درجنوں دیگر افراد کے خلاف اڈیالہ جیل کے قریب اکھٹا ہونے پر راولپنڈی پولیس نے دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا ہے-
منگل کی رات دس بجے درج کیے گئے مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی 13 دفعات لگائی گئی ہیں جبکہ انسداد دہشت گردی کے قانون کی دو دفعات بھی مقدمے میں شامل ہیں-
ایف آئی آر سب انسپکٹر محمد عمران خان کی مدعیت میں تھانہ صدر بیرونی میں درج کی گئی ہے-
مدعی پولیس اہلکار کے مطابق ’شام ساڑھے چار بجے اڈیالہ روڈ پر علیمہ خان، عظمیٰ خان، نورین خان، تابش فاروق، عثمان جوڑا، کرنل ریٹائرڈ اجمل راجہ، عثمان ٹائیگر، رکن پنجاب اسمبلی ملک فہد، رکن پنجاب اسمبلی ملک عدیل اقبال، سینیٹر مرزا آفریدی، رکن پنجاب اسمبلی تنویر اسلم، رکن پنجاب اسمبلی جاوید کوثر، ایم پی اے شیخ امتیاز، رکن خیبر پختونخوا سمبلی مینا خان، رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک، ملک تیمور اور درجنوں دیگرتین، چار سو افراد کے ہمراہ جمع ہوئے-‘
ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے کہ ’یہ افراد علیمہ خان کی کال پر اکھٹے ہوئے، حکومتِ پاکستان اور دیگر اداروں کے خلاف اشتعال انگیز نعرے بازی کر کے اشتعال دلا رہے تھے-‘
مدعی پولیس اہلکار کے مطابق ’ان افراد کو سمجھانے کی کوشش کی گئی اور پُرامن طور پر منشتر ہونے کے کہا مگر وہ نہ ہوئے- اس دوران پتھراؤ سے پولیس وین کو نقصان پہنچا- مظاہرین کے پتھراؤ سے 9 پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے-‘
’افسران کی مدد سے مناسب حکمت عملی کے تحت گھیرا ڈال کر 41 افراد کو گرفتار کر لیا جبکہ دیگر بھاگ جانے میں کامیاب ہو گئے- گرفتار افراد کے ہاتھوں میں پلاسٹک کے پائپ بطور ہتھیار موجود تھے جن کو قبضے میں لے گیا ہے-‘
’اس دوران بھاگ جانے والے افراد کی 13 گاڑیاں بھی پولیس نے قبضے میں لی ہیں جن میں سے ایک گاڑی کی ڈگی سے پیٹرول کا کین، 30 لیٹر بھرا ہوا۔ کانچ کی 15 بوتلیں، روئی کے دو عدد گولےاور ماچس کی پانچ ڈبیاں برآمد کی گئیں- غالب امکان ہے کہ یہ اشیا پیٹرول بم بنانے کے لیے استعمال کی جانا تھیں-‘
ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے کہ ’ایک اور گاڑی کی ڈگی سے 25 عدد ڈنڈے برآمد کیے گئے ہیں- پولیس اہلکار کے مطابق اس دوران لگ بھگ 250 افراد بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوئے جن کو وہ سامنے آنے پر شناخت کر سکتے ہیں-‘

