’گھر غلط جگہ بنا بیٹھے‘، آسٹریلوی جوڑے کو پورا مکان دوسرے پلاٹ پر منتقل کرنا پڑ گیا
آسٹریلیا میں ایک جوڑے کو اس وقت ایک انوکھی اور مہنگی مشکل کا سامنا کرنا پڑا جب انہیں احساس ہوا کہ انہوں نے اپنا نیا مکان انجانے میں اپنے پلاٹ کے بجائے پڑوسی کی زمین پر تعمیر کر لیا ہے۔
میلانیا اور ڈیوڈ مور نے میلبورن سے دو گھنٹے کی مسافت پر واقع ایک دیہی علاقے میں پرسکون زندگی گزارنے کے لیے پانچ ایکڑ کا رقبہ خریدا تھا۔ مارچ 2024 میں انہوں نے یہاں ایک ’پری فیبریکیٹڈ‘ (پہلے سے تیار شدہ) مکان نصب کیا اور اس میں بجلی، پانی اور نکاسیِ آب کا تمام نظام بھی مکمل کر لیا۔
لیکن پانچ ماہ بعد انہیں مقامی کونسل کی جانب سے ایک ایسی کال موصول ہوئی جس نے ان کی نیندیں اڑا دیں۔
میلانیا مور نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ’ہمیں کونسل سے فون آیا کہ کام روک دیں کیونکہ آپ کا گھر غلط پلاٹ پر ہے جبکہ ہمارا اپنا پلاٹ اس سے اگلا والا تھا۔ یہ کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھا۔‘

جوڑے کے مطابق زمین کی حدود واضح نہیں تھیں اور انہوں نے اس حوالے سے مقامی کونسل اور ریئل اسٹیٹ ایجنٹ کی معلومات پر بھروسہ کیا تھا۔ تاہم کورنگامائٹ شائر کونسل کے ترجمان نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
مکان کی 100 میٹر کی ’ہجرت‘
اس غلطی کو سدھارنے کے لیے دو اپریل کو ایک بڑا ٹرک منگوایا گیا جس نے پورے مکان کو اٹھا کر قریباً 100 میٹر دور جوڑے کے اصل پلاٹ پر منتقل کیا۔
فی الوقت یہ جوڑا ایک کیروان (متحرک گھر) میں رہنے پر مجبور ہے کیونکہ گھر کو نئی جگہ پر مستحکم کرنے اور بجلی و پانی کی سہولیات دوبارہ بحال کرنے میں ابھی وقت اور خطیر رقم درکار ہے۔

ڈیوڈ مور جو جگر کے عارضے میں مبتلا ہیں، انہوں نے بتایا کہ انہوں نے یہ جگہ اس لیے خریدی تھی تاکہ وہ اپنی بیماری اور بیوی کی صحت کے مسائل کے پیشِ نظر یہاں پرسکون ماحول میں گھر سے کام کر سکیں لیکن اس صورتحال نے انہیں شدید مالی اور ذہنی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
پڑوسی پلاٹ کے مالکان کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت اس جوڑے کے پاس دو مئی تک کا وقت ہے کہ وہ اس زمین کو اس کی اصل حالت میں بحال کر دیں۔
تمام تر مشکلات کے باوجود میلانیا کا کہنا ہے کہ وہ اب پرسکون ہیں کہ ان کا گھر آخرکار اپنی صحیح جگہ پر پہنچ گیا ہے۔

