پاکستان

پاکستان ایڈز کے تشویشناک اور تیزی سے بڑھتے ہوئے خطرے کی زد میں ہے: سابق مشیر صحت

اپریل 16, 2026

پاکستان ایڈز کے تشویشناک اور تیزی سے بڑھتے ہوئے خطرے کی زد میں ہے: سابق مشیر صحت

‎‏پاکستان کے سابق مشیر صحت ظفر مرزا نے کہا ہے کہ ملک اس وقت ایچ آئی وی/ایڈز کے ایک تشویشناک اور تیزی سے بڑھتے ہوئے خطرے کی زد میں ہے۔

اقوام متحدہ کے ایڈز سے متعلق ادارے کے مطابق ایشیا میں ایچ آئی وی کے نئے کیسز میں سب سے زیادہ اضافہ پاکستان میں دیکھا جا رہا ہے، جو ایک سنجیدہ وارننگ ہے۔

‏ظفر مرزا نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ صوبہ پنجاب کی تحصیل تونسہ کے ہسپتال میں سامنے آنے والی بی بی سی کی تحقیق اس مسئلے کی صرف ایک جھلک ہے، جبکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ وسیع اور گہری ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ملک کے مختلف حصوں میں غیرمحفوظ طبی طریقہ کار بدستور جاری ہیں۔ خون سے منتقل ہونے والی بیماریوں کے پھیلاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں سرنجوں کا دوبارہ استعمال، غیر اسکرین شدہ خون کی منتقلی، غیرمحفوظ جنسی رویے، اور گندے اور جراثیموں سے آلودہ آلات کا استعمال شامل ہے۔

اُن کے مطابق پاکستان پہلے ہی ہیپاٹائٹس سی کے عالمی بوجھ میں اول مقام رکھتا ہے، جہاں اندازاً ایک کروڑ افراد متاثر ہیں۔

‏ظفر مرزا نے کہا کہ سندھ کے رتوڈیرو میں بچوں میں ایچ آئی وی کے بڑے پھیلاؤ کے بعد انہوں نے 2020 میں ایک قومی سطح کی ٹاسک فورس برائے محفوظ انجیکشن تشکیل دی ٹھی ، جس نے نیشنل ایکشن پلان برائے انجیکشن سیفٹی تیار کیا۔ اس کے تحت غیرمحفوظ اور دوبارہ استعمال ہونے والی سرنجوں کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی اور آٹو ڈس ایبل سرنجوں کو فروغ دیا گیا۔ تاہم کمزور گورننس، ناقص عملدرآمد، اور احتساب کے فقدان کے باعث ان اقدامات کے مطلوبہ نتائج پوری طرح حاصل نہیں ہو سکے، اگرچہ نجی شعبے میں سرنجوں کی تیاری بڑی حد تک محفوظ اقسام کی طرف منتقل ہو چکی ہے۔

‏سابق مشیر صحت نے کہا کہ صحت کے نظام کو اس وقت شدید چیلنجز درپیش ہیں، جن میں محدود بجٹ، کمزور سپلائی، اور سرکاری اداروں میں افرادی قوت کی کمی شامل ہے۔ نتیجتاً وہ آبادی جو پہلے ہی معاشی طور پر کمزور ہے، سب سے زیادہ غیرمحفوظ اور غیرمعیاری صحت سہولیات پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ تونسہ کا واقعہ ایک بار پھر اس بات کی یاددہانی ہے کہ یہ مسئلہ مقامی نہیں بلکہ نظامی نوعیت کا ہے جیسے رتوڈیرو (2020) اور جلالپور جٹاں (2009) کے واقعات میں دیکھا گیا۔ ہر بار وقتی توجہ، میڈیا کوریج اور حکومتی ردعمل کے بعد مسئلہ دوبارہ پس منظر میں چلا جاتا ہے۔

‏ڈاکٹر ظفر مرزا کے مطابق اصل مسئلہ پالیسی نہ ہونا نہیں بلکہ اس پر مسلسل اور مؤثر عملدرآمد کا فقدان ہے۔ صحت کے شعبے کو ہمیشہ ثانوی ترجیح دی گئی ہے، جس کا اظہار کم قومی بجٹ سے بھی ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج بھی معصوم بچے ایسے انفیکشنز کا شکار ہو رہے ہیں جو مکمل طور پر قابلِ روک تھام ہیں صرف اس وجہ سے کہ ایک ہی سرنج یا آلودہ طبی آلات کا بار بار استعمال کیا جاتا ہے۔ جو بچے بچ جاتے ہیں، انہیں زندگی بھر علاج اور نگرانی کی ضرورت پڑتی ہے، جو فرد اور نظام دونوں پر ایک مستقل بوجھ ہے۔

‏انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ محفوظ طبی عمل کو ایک ہنگامی صحت عامہ (public health emergency) کے طور پر لیا جائے۔ صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری، مضبوط ریگولیشن، اور سخت احتساب کے بغیر اس مسئلے پر قابو پانا ممکن نہیں۔ یہ صرف ایک پالیسی ایشو نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور قومی ذمہ داری ہے—کیونکہ متاثر ہونے والے لوگ اعداد و شمار نہیں، بلکہ ہمارے اپنے شہری اور بچے ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے