امریکہ ایران مذاکرات میں پیش رفت، شاید پاکستان چلا جاؤں: امریکی صدر
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کے امریکی مطالبے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے اور اگر اسلام آباد میں کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو ’میں شاید خود چلا جاؤں۔‘
وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے امریکہ کی تقریباً تمام شرائط مان لی ہیں۔
پاکستان واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات میں بطور ثالث کردار ادا کر رہا ہے اور گذشتہ ہفتے دونوں کے درمیان بات چیت کا پہلا دور اسلام آباد میں ہوا تھا۔
گفتگو کے دوران ایک صحافی نے امریکی صدر سے سوال کیا کہ وہ ایران کے ساتھ معاہدے پر مہر ثبت کرنے پاکستان جائیں گے، تو ان کا کہنا تھا: ’اگر معاہدے پر دستخط اسلام آباد میں ہوتے ہیں تو شاید میں چلا جاؤں۔‘
’پاکستان میں فیلڈ مارشل اور وزیرِ اعظم بہترین لوگ ہیں، شاید میں وہاں چلا جاؤں۔‘
ایران یا امریکہ کی جانب سے مذاکرات کے دوسرے دور کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’میرا خیال ہے کہ ہم ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کے بہت قریب ہیں۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے 20 برس تک جوہری ہتھیار نہ حاصل کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔
’اچھا لگ رہا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے جا رہے ہیں اور یہ ایک اچھا معاہدہ ہوگا، جس میں جوہری ہتھیار نہیں ہوگا۔‘
’ان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوگا۔ ایمانداری کے ساتھ 20 برس کی کسی حد کو میں نہیں مانتا۔‘
خیال رہے ایران نے اب تک امریکی صدر کے دعوؤں پر تبصرہ نہیں کیا ہے-

