پاکستان

راولپنڈی میں نجی بس کی ہوسٹس کا ریپ، لیہ کے جاننے والے پر مقدمہ درج

اپریل 23, 2026

راولپنڈی میں نجی بس کی ہوسٹس کا ریپ، لیہ کے جاننے والے پر مقدمہ درج

صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی کے تھانہ پیرودھائی میں‌ پولیس نے زیر دفعہ 154 مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت ابتدائی اطلاعِ رپورٹ (ایف آئی آر) نسبت جرم قابل دست اندازی پولیس درج کی ہے-

ضلع راولپنڈی کے تھانہ پیرودہائی میں‌ایف آئی آر نمبر 348/26 رواں‌ ماہ اپریل کی 20 تاریخ کو درج کرائی گئی جس میں‌ وقت وقوعہ 09:00 بجے صبح کا لکھا گیا ہے-

تحصیل و ضلع لیہ کی رہائشی خاتون نے مبینہ طور پر ریپ کیے جانے کے دو گھنٹے بعد تھانے پہنچ کر مقدمہ درج کراتے ہوئے بتایا کہ اُس کو ایک جاننے والے نے ہوٹل کے کمرے میں گھس کر ریپ کیا ہے-

ایف آئی آر میں‌ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 376، اور دفعہ 109 لگائی گئی ہے-

ایف آئی آر کے مطابق جائے وقوعہ و فاصلہ تھانہ سے آدھا کلومیٹر ہے اور یہ ہوٹل جنرل بس سٹینڈ، اڈہ پیرودہائی میں‌ واقع ہے-

متاثرہ خاتون نے ایف آئی آر درج کرانے کی درخواست میں‌ لکھا ہے کہ:
’جناب ایس ایچ او تھانہ پیرودہائی راولپنڈی! گزارش ہے کہ سائلہ ضلع و تحصیل لیہ کی رہائشی ہوں اور بیانی ہوں کہ سائلہ عرصہ دراز سے مختلف کمپنیوں کی بسوں پر بطور بس ہوسٹس کام کرتی ہوں۔ جو کہ چھٹی پر لیہ گاؤں گئی ہوئی تھی۔ کل رات کو بذریعہ بس راولپنڈی کے لیے روانہ ہوئی اور صبح 09:00 بجے پہنچی۔‘

بیان کے مطابق ’مسمی محمد اشرف ولد نامعلوم ساکن سرائے مہاجر، ضلع بھکر کا رہائشی ہے جو کہ اس وقت ترنول میں رہائش پذیر ہے۔ اور یہ بھی مختلف گاڑیوں کا کنڈکٹر ہے۔ جس کے بعد مذکور سائلہ کے پیچھے پڑ گیا اور مختلف اوقات میں تنگ کرتا رہتا تھا۔ کچھ عرصہ قبل بھی اس نے سائلہ کو ہراساں کرنے کے لیے خود کو کٹ وغیرہ لگائے۔ جس کے بعد سائلہ کو غلط کام کرنے کے لئے مجبور کرتا رہا۔ سائلہ ایک شادی شدہ خاتون ہے اور عزت دار ہے۔ جو کہ سائلہ کے شوہر کو نہ پتہ چلے، اس ڈر سے اشرف سے منت سماجت کرتی رہی جس کے بعد اس نے سائلہ کو یقین دلوا دیا کہ آئندہ ایسا نہیں کرے گا۔ جس کے بعد بات ختم ہو گئی۔‘

خاتون نے پولیس کو بتایا کہ ’آج صبح سائلہ جب راولپنڈی آئی تھی تو راستہ بند ہونے کی وجہ سے ترنول اتر گئی، اشرف سے رابطہ ہوا جو مجھے اپنی گاڑی میں پیرودہائی ہوٹل لے کر آیا اور سائلہ کو ہوٹل واقع پیرودہائی چھوڑ کر واپس چلا گیا۔ سائلہ نے تھکاوٹ کی وجہ سے ہوٹل میں ریسٹ کے لیے فرسٹ فلور پر کمرہ کرایہ پر لے لیا اور سونے لگی۔ تھوڑی دیر کے بعد صبح 09:00 بجے دروازے پر دستک ہوئی، سائلہ نے دروازہ کھولا تو اشرف ایک دم سے کمرے میں داخل ہوا اور سائلہ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور سائلہ کو دھکا مار کر بیڈ پر گرا دیا۔ سائلہ کو کچھ سنگھایا جس سے سائلہ فوری بے ہوش ہو گئی۔ اور سائلہ کچھ ہوش نہ رہا جس کے بعد بے ہوشی کے عالم میں اشرف مذکور نے سائلہ کے ساتھ زبردستی زیادتی کی۔ اور سائلہ کو بے ہوشی کی حالت میں چھوڑ کر بھاگ گیا۔‘

ایف آئی آر میں‌ لکھوایا گیا ہے کہ ’جب سائلہ کو ہوش آیا تو سائلہ کے کپڑے اترے ہوئے تھے اور ریپ کیا گیا تھا۔ جبکہ جسم پر مختلف جگہوں پر ناخنوں کے نشان تھے سائلہ نے فوری اور دیکھا تو وہاں کوئی نہ تھا۔ اور اشرف موقع سے جا چکا تھا۔ اشرف مذکور نے سائلہ کو ریپ کر کے سخت زیادتی کی ہے اس کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی کر کے سائلہ کی داد رسی کی جائے۔ آپ کی مہربانی ہوگی۔‘

ایف آئی آر کے آخر میں لکھا ہے کہ ’سائلہ مندرجہ نے حاضری تھانہ تحریری درخواست پیش کی، جو حرف بحرف درج بالا ہو کر مضمون درخواست و حالات و واقعات سے درست صورتِ جرم 376 ت پ پائی جا کر رپورٹ ابتدائی اطلاع بنام ہذا جرم مذکور مرتب ہوئی، اصل درخواست مع نقل FIR حسب الحکم SHO صاحب، برآمد تفتیش آفیسر زاہد محمود SI ارسال ہے، محرر کو ہدایت ہوئی کہ بعد تکمیل ریکارڈ دیگر نقول FIR بذریعہ سپیشل رپورٹ افسران مجاز کو ارسال کرے۔‘

دوسری جانب ملزم کے وکیل انجم نسیم عباسی ایڈووکیٹ کا مؤقف ہے کہ یہ ہنی ٹریپ کا معاملہ ہے اور مدعیہ خاتون کی جانب سے اس طرح کی کل 17 ایف آئی آر ہیں جن میں سے 9 ریپ کی ہیں، باقی دیگر دفعات 354 وغیرہ کی ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ وہ دونوں ملزمان کی طرف سے بطور وکیل پیش ہو رہے ہیں۔

انجم نسیم عباسی ایڈووکیٹ کے مطابق ایک ملزم ہوٹل مالک کو تو بدنیتی سے شامل کیا گیا ہے کیونکہ ایف آئی آر میں اُس کا نام یا کردار تک کا ذکر نہیں دیامگر پولیس نے ملی بھگت سے اس کو شامل کیا ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے