ایرانی فٹبال وفد کا کینیڈا میں داخلہ تنازع کا شکار، سابق پاسداران کمانڈر کا معاملہ زیر بحث
ایران کی فٹبال فیڈریشن کے ایک سینیئر عہدیدار نے کہا ہے کہ وہ کینیڈین حکام سے رابطے میں ہیں، جب کینیڈا نے تصدیق کی کہ حکومت نے سابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے کمانڈر کو وینکوور میں ہونے والی فیفا کانگریس میں شرکت کے لیے جاری کیے گئے سفری دستاویزات منسوخ کر دیے تھے۔
یہ واقعہ کینیڈا میں ایک نئی سیاسی بحث کا باعث بن گیا ہے، جہاں اپوزیشن جماعت کنزرویٹو پارٹی کی جانب سے حکومت کے فیصلے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
اس سے قبل بھی 2022 میں اسی نوعیت کا معاملہ سامنے آیا تھا جب ایران کی فٹبال ٹیم کو کینیڈا میں ایک دوستانہ میچ کے لیے مدعو کیے جانے پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا، جس کے بعد وہ میچ منسوخ کر دیا گیا تھا۔
اس تازہ تنازع میں ایران فٹبال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج شامل ہیں، جو ماضی میں مبینہ طور پر IRGC سے وابستہ انٹیلی جنس عہدیدار رہ چکے ہیں۔ کینیڈا نے 2024 میں IRGC کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق مہدی تاج ایک چھوٹے ایرانی وفد کی قیادت کر رہے تھے، جو منگل کے روز ٹورنٹو کے پیرسن ایئرپورٹ پر پہنچا۔ وہاں کینیڈین بارڈر سیکیورٹی ایجنسی (CBSA) نے وفد سے مبینہ تعلقات کے حوالے سے پوچھ گچھ کی۔
ایران فٹبال فیڈریشن کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل حامد مومنی نے کہا ہے کہ وہ اس صورتحال پر متعلقہ حکام سے رابطے میں ہیں، تاہم انہوں نے واضح نہیں کیا کہ کن اداروں سے بات چیت کی جا رہی ہے۔
مہدی تاج کے مطابق وفد کو کینیڈا کے ویزے جاری کیے گئے تھے، لیکن آمد پر انہیں پوچھ گچھ کے لیے روکا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بعد میں وفد کو اجازت مل گئی تھی، تاہم صورتحال اور حکام کے رویے کے باعث انہوں نے خود واپسی کا فیصلہ کیا۔
دوسری جانب کینیڈا کی امیگریشن وزیر لِینا دیاب نے پارلیمانی کمیٹی کو بتایا کہ متعلقہ شخص کے پاس کینیڈا میں داخلے کا کوئی قانونی حق موجود نہیں تھا اور سفری اجازت نامے دورانِ سفر ہی منسوخ کیے گئے۔
اس سے قبل 2022 میں بھی ایران کی فٹبال ٹیم کے کینیڈا کے دورے پر سیاسی اور عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا، جس کے بعد وہ مجوزہ میچ منسوخ کر دیا گیا تھا۔
مزید تفصیلات اور دونوں فریقین کے سرکاری مؤقف کا انتظار کیا جا رہا ہے-

