عالمی خبریں

امریکی سپریم کورٹ نے پیدائشی شہریت کے حق میں فیصلہ دے دیا، ٹرمپ کا ایگزیکٹو آرڈر مسترد

جون 30, 2026

امریکی سپریم کورٹ نے پیدائشی شہریت کے حق میں فیصلہ دے دیا، ٹرمپ کا ایگزیکٹو آرڈر مسترد

سید فیصل علی، واشنگٹن

امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ امریکہ میں پیدا ہونے والے وہ بچے بھی پیدائشی طور پر امریکی شہری ہیں جن کے والدین غیر قانونی طور پر یا عارضی ویزے پر امریکہ میں موجود ہوں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ امریکی آئین کی چودھویں ترمیم کی Citizenship Clause کے تحت “امریکہ میں پیدا یا نیچرلائز ہونے والے تمام افراد، جو اس کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، امریکہ اور اپنی رہائشی ریاست کے شہری ہیں۔”

صدر ٹرمپ نے 20 جنوری 2025 کو Executive Order No. 14160 جاری کیا تھا، جس کا عنوان “Protecting the Meaning and Value of American Citizenship” تھا۔ اس حکم نامے کے تحت ایسے بچوں کو امریکی شہریت سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی تھی جن کے والدین غیر قانونی طور پر یا عارضی بنیادوں پر امریکہ میں مقیم ہوں۔

متعدد والدین نے اس حکم نامے کو عدالت میں چیلنج کیا تھا، مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ یہ ایگزیکٹو آرڈر چودھویں ترمیم اور امریکی امیگریشن قانون کے خلاف ہے۔

چیف جسٹس جان رابرٹس نے اکثریتی فیصلہ تحریر کیا، جس میں جسٹس سونیا سوٹومیئر، جسٹس ایلینا کیگن، جسٹس ایمی کونی بیرٹ اور جسٹس کیتن جی براؤن جیکسن نے اتفاق کیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ امریکہ میں پیدا ہونے والے بچے، خواہ ان کے والدین غیر قانونی طور پر ملک میں موجود ہوں یا عارضی ویزے پر، امریکی دائرہ اختیار کے تابع ہوتے ہیں، اس لیے وہ پیدائش کے وقت ہی امریکی شہری بن جاتے ہیں۔

فیصلے میں عدالت نے کہا کہ چودھویں ترمیم کو اس کے تاریخی تناظر میں سمجھا جانا چاہیے، خاص طور پر Dred Scott فیصلے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور امریکی شہریت کے بنیادی اصولوں کے پس منظر میں۔

عدالت نے مزید واضح کیا کہ آئین کی زبان میں “ماں”، “باپ”، “قانونی”، یا “عارضی” جیسے الفاظ موجود نہیں، اس لیے ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے شہریت کے آئینی حق کو محدود نہیں کیا جا سکتا۔

یہ فیصلہ صدر ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کے لیے بڑا دھچکا ہے اور امریکہ میں پیدائشی شہریت کے دیرینہ آئینی اصول کی ایک بار پھر توثیق کرتا ہے۔
صدر ٹرمپ چاہتے تھے کہ امریکی سرزمین پر پیدا ہونے والے تارکینِ وطن (جن کے پاس دستاویزات نہیں ہیں) کے بچوں کو خودکار شہریت دینے کا طریقہ کار ختم کر دیا جائے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے