ملک ریاض کی معافی قبول ہے
پاکستان کی سپریم کورٹ نے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کی سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف کی گئی پریس کانفرنس پر عدالت عظمی سے مانگی گئی معافی کو قبول کر کیا ہے ۔
سپریم کورٹ نے ملک ریاض کی غیر مشروط معافی کو قبول کرتے ہوئے توہین عدالت کیس سے بری کر دیا ہے ۔
عدالت نے قرار دیا ہے کہ ملک ریاض نے عدلیہ کے یرغمال ہونے اور ارسلان افتخار کے فیصلے دلوانے والے الفاظ بھی واپس لے لیے ہیں، عدالتی آرڈر کے مطابق 7 برس میں ملک ریاض کا کنڈکٹ ظاہر کرتا ہے کہ انہوں نے صدق دل سے معافی مانگی ۔
عدالت نے کہا ہے کہ ملک ریاض نے نیک نیتی سے غیرمشروط معافی مانگی، عدالت ملک ریاض کی تحریری معافی سے مطمئن ہے ۔
سپریم کورٹ نے ملک ریاض کے خلاف چارج شیٹ اور توہین عدالت کیس واپس لے لیا ۔
یاد رہے کہ سات برس قبل ملک ریاض نے سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف پریس کانفرنس کر کے سنگین نوعیت کے الزام عائد کیے تھے ۔
ملک ریاض نے اس پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ چیف جسٹس کے بیٹے ارسلان افتخار ان کو مقدمات کے حوالے سے بلیک میل کر کے رقم لیتے رہے ہیں ۔
سپریم کورٹ نے پریس کانفرنس کا نوٹس لے کر ملک ریاض پر توہین عدالت کی فرد جرم عائد کی تھی ۔

