پاکستان

وزیراعظم کا ’وہ‘ مطلب نہیں تھا، دفتر خارجہ

مارچ 27, 2019

وزیراعظم کا ’وہ‘ مطلب نہیں تھا، دفتر خارجہ

عابد خورشید

پاکستان کے دفتر خارجہ نے وزیراعظم عمران خان کے افغانستان میں عبوری حکومت کے قیام کے بارے میں بیان پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’بیان کو تناظر سے ہٹ کر  پیش کیا گیا ہے جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے بے جا ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔‘

بدھ کو دفتر خارجہ  کے جاری کردہ وضاحتی بیان  کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے بیان کو افغانستا ن کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے طور پر نہ لیا  جائے۔

دفتر خارجہ کی وضاحت کے مطابق ’پاکستان کو افغانستان میں مداخلت کا نہیں بلکہ افغان قیادت کے مابین امن بحالی  کے سیاسی عمل میں دلچسپی رکھتا ہے۔‘

خیال رہے کہ  25  مارچ کو  عمران خان نے پاکستانی صحافیوں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے  افغانستان میں نگران حکومت کے قیام سے متعلق بیان دیا تھا۔  اس بیان کے ردعمل میں کابل نے اسلام آباد میں اپنے سفیر کو واپس مشاورت کے لیے بلایا ہے۔

دفتر خارجہ کی  وضاحت میں مزید اس نکتے  پر زور دیا گیا ہے کہ  وزیراعظم پاکستان ’افغانستان کی بہادر عوام، جن کو  چار دہائیوں سے  جنگ اور تشدد کا سامنا ہے، کی مشکلات کا ادراک رکھتے ہیں۔ افغان عوام کا یہ  حق ہے کہ وہ امن کے ساتھ رہ سکیں۔‘

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے اس بیان کو سوشل میڈیا پر امریکی خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد اور افغانستان میں امریکی سفیر نے بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔

 پاکستانی وزارت خارجہ  کے ترجمان نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان  نے افغان امن بحالی کے سیاسی  عمل میں   ذاتی دلچسپی لی ہے تاکہ یہ سب  ممکن ہوسکے۔  ’وزیراعظم کے  بیان کو اس اہم مرحلے پر امن بحالی کی مخلصانہ کوششوں کو نقصان پہنچانے اورغلط فہمی پیدا کرنے  کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔‘

 

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے