دھرنے کے بعد لاپتہ شیعہ گھروں کو واپس
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد نے ملک کے صدر کی رہائش گاہ کے باہر دیا گیا دھرنا اس وقت ختم کرنے کا اعلان کیا ہے جب ان کے مطابق کئی لاپتہ افراد کو رہا کر دیا گیا ہے ۔
کراچی میں اپریل کے مہینے میں پولیس اور سیکورٹی اداروں نے دو صحافیوں سمیت کئی شیعہ نوجوانوں کو فرقہ وارانہ تشدد کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں حراست میں لیا تھا تاہم ان کو کسی بھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا جس پر شیعہ مسلک کی تنظیموں نے احتجاج شروع کیا تھا ۔
کراچی پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل عامر فاروقی نے چھ مئی کو ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ انھوں نے ایسے پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے جن کا تعلق فرقہ وارانہ ہلاکتوں کی وارداتوں سے ہے۔
پولیس افسر کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد میں کراچی سے لاپتہ ہونے والے شیعہ صحافی مطلوب حسین کے علاوہ سید عمران حیدر، وقار رضا، محمد عباس اور سید محتشم کے نام شامل تھے ۔
عامر فاروقی نے پریس کانفرنس میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا تھا کہ مطلوب حسین پر بیرونِ ملک سے تربیت حاصل کرنے اور ممکنہ طور پر ٹارگٹ کلنگ کے لیے شخصیات کی فہرست اپنے بیرونی ہینڈلرز کو فراہم کرنے کے الزامات ہیں۔

کراچی میں شیعہ دھرنے کے منتظمین نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ ان کے انتظامیہ سے مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں اور ان کے ’کئی ساتھی‘ واپس آ گئے ہیں اس لیے دھرنا ختم کیا جاتا ہے ۔
سوشل میڈیا پر شیعہ کمیوںٹی کے اکاؤنٹس اور پیجز سے بتایا جا رہا ہے کہ لاپتہ شیعہ افراد کی بازیابی کے لیے دیا جانے والا دھرنا 9 افراد کی بازیابی اور حکام کی جانب سے مزید افراد کی بازیابی کی یقین دہانیوں کے بعد ختم کیا گیا ۔
بتایا جا رہا ہے کہ سیکورٹی حکام نے لاپتہ کیے گئے 10 افراد کی مختلف مقدمات میں گرفتاری ظاہر کی ہے اور ان کے اہلخانہ کو ان سے ملاقات کی اجازت دی گئی ہے۔
پولیس نے دھرنے کے دوران حراست میں لیے جانے والے 17 افراد کو رہا بھی کیا ہے ۔

