تحریک انصاف اور پی ٹی ایم ایک ساتھ
پاکستان کی پارلمینٹ کے ایوان نمائندگان یعنی قومی اسمبلی نے پشتون تحفظ موومنٹ سے تعلق رکھنے والے رکن کی آئینی ترمیم کے بل کو اتفاق رائے سے منظور کر لیا ہے ۔
قومی اسمبلی میں محسن داوڑ کی جانب سے پیش کیے گئے 26 ویں آئینی ترمیم کے بل کو تمام جماعتوں نے متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے اس کے حق میں 288 ووٹ ڈالے ۔
بل کی مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں آیا ۔
بل کی منظوری کے بعد آئینی ترمیم سینٹ سے بھی منظور ہوئی تو سابقہ قبائلی علاقوں کی قومی اسمبلی میں نشستیں 12 رہیں گی ۔
بل کی منظوری کے بعد بھی قومی اسمبلی کی مجموعی نشستیں 342 ہی رہیں گی جبکہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں قبائلی علاقوں کی نشستیں 16 سے بڑھ کر 24 ہوجائیں گئیں۔
بل کی منظوری کے بعد خیبرپختونخوا اسمبلی کی مجموعی نشستیں 124 سے بڑھ کر 155 ہوجائیں گی ۔
قومی اسمبلی اجلاس میں سابق وزیراعظم میں شاہد خاقان عباسی نے بل کی منظوری پر اپنی تقریر میں کہا کہ پہلا موقع ہے پرائیویٹ ممبر بل سے آئینی ترمیم ہورہی ہے، فاٹا کے عوام کو ان کا حق دیا جائے ۔
ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ جس رکن نے فاٹا کا بل پیش کیا اس کا تعلق پی ٹی ایم سے ہے، ’ہم کسی کو را کا ایجنٹ نہیں کہتے، اگر ایسا ہے اس کو سزا ملنی چاہیئے۔‘
انہوں نے کہا کہ اس اہم بل پر وزیراعظم کو ایوان میں موجود ہونا چاہئے تھا، مولانافضل الرحمن نے مجھے بتایا کہ انہیں فاٹا بل پر شدید اختلاف ہے، فاٹا بل حکومت اور اپوزيشن کے دستخط ہونے چاہئیں تھے ۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ملک کے بڑے بڑے مسائل پر بات نہیں ہو رہی۔
پیپلز پارٹی کی رہنما نفیسہ شاہ نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج انتہائی اچھا دن ہے کہ فاٹا کے لیے بل اتفاق رائے سے منظور کیا گیا ہے ۔ اس پر تمام جماعتوں کو مبارکباد دینی چاہیے ۔

