اب تو یوٹرن ختم کریں، جسٹس گلزار احمد
احمد عدیل سرفراز / صحافی
پاکستان میں اپوزیشن جماعتوں کے بعد سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس گلزار احمد نے بھی میٹرو سروس کو جنگلہ بس قرار دے دیا تاہم انہوں یو ٹرن بند کرنے کی بھی ہدایات جاری کی ہیں ۔
سپریم کورٹ میں سینٹارس مال تجاوزات کیس کی سماعت کے دوران عدالتی بنچ نے ایک مرتبہ پھر وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے اور اگلی سماعت پر اسلام آباد کے میئر اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے چیرمین کو طلب کر لیا ہے ۔
عدالت نے تجاوزات کے خلاف کی گئی اب تک کی کارروائی کی تصاویر پر مبنی رپورٹ بھی پیش کرنے کے لیے کہا ہے ۔
قائم مقام چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا تو چیرمین سی ڈی اے نے عدالت کو بتایا کہ شہر کے بڑے شاپنگ مال سینٹورس سے ملحقہ سروس روڈ واگذار کروا لی گئی ہے جبکہ تجارتی مرکز بلیو ایریا سمیت شہر بھر میں بھرپور آپریشن جاری ہے۔
چیرمین سی ڈی اے نے عدالت میں دعوی کیا وفاقی دارالحکومت کو جلد تجاوزات سے پاک کر دیں گے۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ابھی چل کر دیکھ لیتے ہیں کتنی تجاوزات ختم ہوئی ہیں ۔
قائم مقام چیف جسٹس نے کہا کہ اسلام آباد کی شاہراہوں پر یو ٹرن بہت زیادہ ہیں ۔ ”مجھے ڈرائیونگ کرتے چالیس سال ہو گئے، اسلام آباد میں گاڑی چلانا میرے لیے بھی کافی مشکل ہے۔اب یوٹرن ختم ہونے چاہئیں ۔“
جسٹس گلزار احمد نے اسلام آباد میں پبلک ٹرانسپورٹ پر بھی خدشات کا اظہار کیا۔ قائم مقام چیف جسٹس نے اسلام آباد میٹرو بس سروس کو جنگلہ بس قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”یہ ناقابل قبول ہے کہ ایک جنگلہ بس چلا دی گئی ہے جبکہ وفاقی دارالحکومت میں تو زیر زمین ٹرین چلنی چاہیے۔“
جسٹس گلزار احمد نے مزید کہا کہ ججز کالونی میں آنے والوں کو میلوں دور اتر کر پیدل آنا پڑتا ہے۔
بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ ایمبیسی روڈ کی گرین بیلٹ پر بھی قبضہ ہو چکا ہے۔
چیرمین سی ڈی اے نے عدالت کو بتایا ایمبیسی روڈ کی توسیع کا کام جاری ہے، عدالت کو اپنی کارکردگی سے مطمئن کریں گے۔
چیرمین سی ڈی اے نے کہا کہ اسلام آباد ایکسپریس وے کو سگنل فری بنانے کیلیے کام جاری ہے۔ بجٹ میں تین سال کے بعد گرانٹ بھی مختص ہو چکی ہے۔
عدالت نے بعد ازاں کیس کی سماعت دو ہفتوں کیلیے ملتوی کر دی۔

