فوج کی فائرنگ سے تین ہلاک، علی وزیر گرفتار
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں پشتون تحفظ موومنٹ اور سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان جھگڑے کی اطلاعات کے بعد فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ علی وزیر اور محسن داوڑ نے فوج کی چیک پوسٹ پر حملہ کر کے دہشت گردوں کو رہا کرانے کی کوشش کی ہے جس دوران سیکورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں فائرنگ سے تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
فوجی ترجمان کے بیان کے مطابق چیک پوسٹ پر کی گئی فائرنگ سے پانچ اہلکار زخمی ہوئے جن کو پشاور منتقل کر دیا گیا ہے۔
فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ علی وزیر کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ محسن داوڑ فرار ہو گئے ہیں۔
اس سے قبل مقامی افراد نے کہا تھا کہ سیکورٹی اہلکاروں کی فائرنگ سے کئی افراد زخمی ہوئے ہیں۔
مقامی ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق میران شاہ کے قریب دتہ خیل میں دھرنا دینے والے قبائلی افراد اور سیکورٹی اہلکاروں میں تلخی کے بعد ہاتھا پائی ہوئی۔
سیکورٹی ذرائع سے دی جانے والی خبر کے مطابق پی ٹی ایم کارکنوں نے چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس کی جوابی کارروائی میں کئی افراد کو حراست میں لیا گیا۔
اس سے قبل سیکورٹی ذرائع نے دعوی کیا تھا کہ علی وزیر اور محسن داوڑ علاقے میں موجود ہیں اور لوگوں کو اشتعال دلا رہے ہیں۔
سیکورٹی فورسز نے اپنے ذرائع سے میڈیا کو اطلاع دی ہے کہ محسن داوڑ کے گارڈز نے فائرنگ کی جبکہ ان کو معمول کی تلاشی کے لیے چیک پوسٹ پر روکا گیا تھا۔

علاقے سے موصول ہونے والی ویڈیو میں لوگوں کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ سیکورٹی اہلکاروں نے کارروائی کی ہے اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
مقامی افراد کا دعوی ہے کہ سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے 45 افراد زخمی ہوئے ہیں جن کو طبی امداد فراہم کرنے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔

