چیک پوسٹ پر مارے جانے والوں کو 25 لاکھ
پاکستان میں صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے شمالی وزیرستان کی چیک پوسٹ پر فوج کی فائرنگ سے مارے جانے والے شہریوں کے لیے 25 لاکھ فی کس جبکہ زخمیوں کے لیے فی کس 10 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل پاکستان کی فوج نے کہا تھا کہ شمالی وزیرستان کی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو چھڑانے کے لیے حملہ کیا گیا تھا اور اس میں دو ارکان قومی اسمبلی علی وزیر اور محسن داوڑ شامل تھے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے دفتر سے سنیچر کو جاری کیے گئے اعلامیے میں معاوضوں کا اعلان کیا گیا ہے۔
ہینڈ آوٹ نمبر۔1 پشاور سے 01 جون2019 کو جاری کیا گیا جس کے مطابق ”وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان نے شمالی وزیرستان کے علاقہ خڑ قمر میں پیش آنے والے واقعے میں متاثرہ افراد کیلئے امدادی پیکج کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پختونوں کے نام پر سیاست کرنے والے پختون قوم کو دوبارہ جنگ میں دھکیلنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں جو کہ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔“
انہوں نے واقعے میں جاں بحق افراد کے لیے 25 لاکھ روپے جبکہ زخمی ہونے والے افراد کو دس لاکھ روپے معاوضہ کا اعلان کیا ہے۔
ہینڈ آؤٹ کے مطابق وزیراعلی نے واضح کیا کہ عوام، پاک فوج اور سکیورٹی اداروں کی قربانیوں کی بدولت امن قائم ہوا ہے اور اس امن کو برقرار رکھنے کے لئے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔
اعلامیے کے مطابق وزیراعلی نے واضح کیا کہ ”اس وقت وفاقی اور صوبائی قیادت پختونوں کے پاس ہے اور وہ پختونوں کے مسائل حل کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔“
انہوں نے کہا کہ تمام تر مسائل حکومت کے سامنے رکھے جائیں تاکہ حکومت موثر انداز میں میں ان کو حل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائیں نہ کہ مسائل کو بنیاد بنا کر ایک غیر ضروری مہم جوئی میں اپنا وقت ضائع کریں۔

