پاکستان پاکستان24

’زرتاج گل کی بہن کا میرٹ اور سفارشی خط‘

زرتاج گل کی بہن نے پی ایچ ڈی کب کی؟ اور نیکٹا میں کیسے تقرر کیا گیا

جون 2, 2019

’زرتاج گل کی بہن کا میرٹ اور سفارشی خط‘

پاکستان میں سوشل میڈیا پر تحریک انصاف حکومت کی وفاقی وزیر ماحولیات زرتاج گل کی لیکچرر بہن شبنم گل کی راتوں رات ترقی کے قصے پھیلے ہوئے ہیں۔

ملک کے معروف صحافیوں کی جانب سے شروع کی گئی اس بحث میں وفاقی وزیروں نے بھی حصہ لیا مگر تاحال مقابلہ برابر ہے۔

اب وزیراعظم کے خصوصی معاون نعیم الحق نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’عمران خان نے زرتاج گل کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی بہن کی سفارش کے لیے نیکٹا کو بھیجے گئے خط کو واپس لیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے مطابق تحریک انصاف میں رشتہ داروں کو نوازنے کی گنجائش نہیں ہے۔

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری اور دیگر انصافی لیڈروں کی جانب سے زرتاج گل کی بہن کے تقرر کو درست ثابت کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر بھرپور کوشش کی گئی مگر سرکاری دستاویزات کی نقول سامنے آنے کے بعد ان کو پیچھے ہٹنا پڑا۔

صحافی عمر چیمہ نے زرتاج گل کے دفتر سے اپنی بہن کے تقرر کے لیے سیکرٹری داخلہ اعظم سلیمان خان کو لکھا گیا خط ٹویٹ کیا ہے۔ 

انہوں نے لکھا ہے کہ ’زرتاج گل نے وزیراعظم عمران خان کے ایک کروڑ نوکریوں کے وعدے کی ایفاء کرتے ہوئے نے اپنی ہمشیرہ کی نیکٹا میں تعیناتی کرا دی۔‘

اس خط میں وزیر ماحولیات کے سٹاف افسر سیکرٹری داخلہ کو فون پر کی گئی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے شبنم گل کی سی وی بھیجنے اور اس پر ’ضروری کارروائی‘ کے لیے کہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مذکورہ خط فروری کو لکھا گیا ہے۔

دوسری جانب نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی نیکٹا نے ایک طویل پریس ریلیز میں شبنم گل کو ہائر کرنے کی وضاحت کی ہے۔

زرتاج گل نے ٹوئٹر پر نیکٹا کی پریس ریلیز کو ریٹویٹ کر کے اپنے مؤقف کی فتح قرار دیا ہے۔

صحافی طلعت حیسن کی جانب سے ٹویٹ کی گئی اس پریس ریلیز میں نیکٹا نے بتایا ہے کہ شبنم گل کو طریقہ کار کے مطابق انٹرویو کے بعد منتخب کیا گیا۔ 

طلعت حسین نے لکھا ہے کہ ’ا یک مرکزی محکمے نیکٹا کی جانب سے انیس گریڈ کے تقرر کو اس طرح دفاع کرنا شرمناک ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ نیکٹا اس تقرر پر اتنا اتاؤلا کیوں ہو رہا ہے؟ کیا ان کے پاس کرنے کو کچھ اور نہیں۔

نیکٹا کی وضاحت میں کہا گیا ہے کہ 14مئی کو انٹرویو کیا گیا جبکہ بائیس مئی کو سٹیبلشمنٹ ڈویژن سے تقرر کے لیے کہا گیا۔ خیال رہے کہ فواد چودھری اور دیگر نے کہا تھا کہ شبنم گل پی ایچ ڈی ہیں اور ان کے انسداد دہشت گردی و شدت پسندی پر ریسرچ پیپرز شائع ہوئے ہیں۔

نیکٹا نے بھی اپنی پریس ریلیز میں پی ایچ ڈی اور ریسرچ کا حوالہ دیا ہے تاہم بعض صارفین سوشل میڈیا پر روزنامہ ڈان کی ایک خبر شئیر کر رہے ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ شبنم گل کا ریسرچ پیپر یا تھیسز نقل پر مبنی تھا اور پنجاب یونیورسٹی نے ان کے خلاف کارروائی بھی کی تھی۔ 

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے