جسٹس فائز نے عمران خان کی جائیداد پر سوال اٹھا دیا
پاکستان میں بیوی اور بچوں کے بیرون ملک اثاثوں کو چھپانے کے الزامات کا سامنا کرنے والے جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے صدر مملکت عارف علوی کو طویل خط میں کئی سوالات اٹھائے ہیں جن میں وزیراعظم عمران خان پر طنزیہ تبصرہ بھی شامل ہے۔
حکومتی ہتھکنڈوں کے سامنے ڈٹنے کا تاثر دینے والے اس خط میں جسٹس فائز عیسی نے لکھا ہے کہ ”حکومت نے میرے حق کو نقصان پہنچایا، حکومتی اراکین نے مجھے دباؤ میں لانے کی کوشش کی، لیکن یاد رکھیں میں دباؤ کے بغیر آئین اور قانون کے مطابق کام کرتا رہوں گا، میں عدلیہ کو دباؤ میں نہیں آنے دوں گا اور آئین کی حفاظت کروں گا۔“
جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ایک ہفتے میں صدر عارف علوی کو لکھے گئے دوسرے خط میں کہا ہے کہ ”حکومتی اہلکاروں نے میرے اور اہلخانہ کے خلاف آدھی بات بتاکر ہمیں بدنام کرنے کی کوشش کی، اور نجی زندگی میں مداخلت کی۔“
جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے خط میں ایک جگہ لکھا ہے کہ اثاثے جن کے نام ہیں انہی کے نام ہیں، کبھی چھپانے کی کوشش کی اور نہ ہی آف شور کمپنی یا ٹرسٹ بنا کے ان نام رکھنے کی کوشش کر کے اصل مالک کو چھپایا۔
خیال رہے کہ عمران خان، جہانگیر ترین اور ان سے پہلے مریم نواز نے آف شور کمپنیاں بنا کر جائیداد رکھی۔
جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے وزیراعظم عمران خان اور ان کے بچوں کی جائیدادوں پر سوال اٹھاتے ہوئے لکھا ہے کہ ”جناب صدر! جس وقت وزیراعظم نے آپ کو میرے خلاف ریفرنس بھیجنے کی ایڈوائس دی، کیا آپ نے وزیراعظم سے پوچھا کہ انہوں نے اپنی اہلیہ اور بچوں کی مکمل جائیدادیں ظاہر کی ہیں؟۔ اگر ایسا ہے تو ان کے جواب کی نقل فراہم کی جائے تاکہ اپنے خلاف ریفرنس میں دفاع کے طور پر اس کو استعمال کر سکوں۔“
انہوں نے لکھا ہے کہ کیا یہ ستم ظریفی نہیں کہ زیادہ ٹیکس دینے والوں سے سوال کیا جارہا ہے، اور بہت کم ٹیکس والوں سے پوچھ گچھ نہیں کی جا رہی۔


