’ہم کھڑے ہیں، مودی اوپر سے گزر گیا‘
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی اپیل پر جمعے کو ملک بھر کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ٹریفک روکی گئی، سائرن بجائے گئے اور شہری کو گھروں اور دفاتر سے باہر آ کر آدھا گھنٹہ کھڑے رہے۔
سرکاری ملازمین اور سکول کے بچوں کی بڑی تعداد نے سڑکوں پر کھڑے ہو کر نعرے لگائے اور پاکستان و کشمیر کے جھنڈے لہرائے تاہم اس موقع پر ٹریفک روکے جانے سے کئی علاقوں میں ناخوشگوار صورتحال بھی پیدا ہوئی۔
اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف چوراہوں اور فلائی اوورز کے آس پاس ٹریفک پولیس کے اہلکاروں نے سگنل نہ ہونے کے باوجود سڑک بند کرکے گاڑیوں کو روکا۔
ایسے ہی مواقع کی سینکڑوں ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ہیں جن میں سے ایک ویڈیو میں شہری ٹریفک پولیس کے اہلکار سے کہہ رہا ہے کہ ہمیں روکا ہوا ہے اور مودی (انڈین وزیراعظم) اوپر سے گزر گیا۔
خیال رہے کہ حال ہی میں انڈین وزیراعظم نریندر مودی کا خصوصی طیارہ پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے فرانس میں جی سیون اجلاس میں شرکت کے لیے گزرا تھا۔
اس سے قبل حکومت کے آدھا گھنٹہ کھڑے رہنے اور ٹریفک روکنے کے فیصلے پر سوشل میڈیا صارفین نے سخت تنقید کی تھی۔
صحافی سرل المیڈا نے ٹویٹ کیا کہ ٹی وی پر بہترین تبصرہ ریما عمر نے کیا ہے کہ سرکاری احتجاج فائدے کے بجائے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔

صحافی عون ساہی کے مطابق کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے ٹریفک روکنا اور گھروں سے باہر نکلنا مستحسن اقدام ہے۔
تجزیہ کار اور لکھاری عمار مسعود کے مطابق اب کشمیر آزاد ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
صحافی احمد ولید نے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ کیا زبردست آئیڈیا ہے۔ کسی کو ایمرجنسی ہو تو؟

اینکر ماریہ میمن نے پوچھا ہے کہ ”وزارت ریلوے کے مطابق کل دو پہر بارہ سے ساڑھے بارہ بجے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئیے ٹرینیں روک دی جائیں گی۔“
انہوں نے لکھا کہ کون دے رہا ہے حکومت کو یہ مشورے؟
اینکر محمد جنید نے ماریہ میمن کی ٹویٹ کو ری ٹویٹ کر کے لکھا کہ یہ جو دس کروڑ ہیں جہل کا نچوڑ ہیں۔

