کوہستان لڑکیاں قتل کیس میں تین کو عمر قید
نعمان شاہ ۔ صحافی / مانسہرہ
کوہستان ویڈیو سکنڈل کا فیصلہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے سنا دیا جج نے جرم ثابت ہونے پر تین مجرمان کو عمر قید اور سات سات سال قید کی اضافی سزا سنائی جبکہ ناکافی شہادتوں اور ثبوتوں پر، پانچ ملزمان کو باعزت بری کر دیا
سپریم کورٹ میں زیر سماعت مشہور کوہستان ویڈیو سکینڈل کیس میں 8 ملزمان پر 2012 منظر عام پر آنے والی ویڈیو کی بنیاد پر 2018میں پشاور ہائی کورٹ ایببٹ آباد بنچ کی عدالت کے حکم پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ ضلع کولئی پالس میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
2012 میں صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع کولئی پالس کے گاؤں گدار سے منظر عام پر آنے والی ویڈیو کے بعد ابتک 9 افراد قتل کیے جا چکیں ہے جن میں مقدمہ کا مرکزی کردار اور کوہستان ویڈیو سکینڈل سے شہرت پانے والا افضل کوہستانی بھی شامل ہے
جمعرات کے روز ضلع کولئی پالس کے سیشن عدالت کے جج صفی اللہ جان نے 5 خواتین کے قتل کے کیس کی سماعت کی جس میں نامزد آٹھ ملزمان میں سے تیں مجرمان سائیر ، سبیر پسران اسماعیل اور عمر خان ولد موبین اقوام اذاد خیل ساکنہ گدار پالس کو جرم ثابت ہونے پر عمرقید کی سزا کیساتھ 7.7 سال اضافی قید کی سزا سنائی گئی جبکہ پانچ ملزمان کو ناکافی شہادتوں اور ثبوتوں کی بنیاد پر باعزت بری کردیا گیا۔ بری ہونے والوں میں حبیب اللہ ، سیف اللہ ، سرفراز ، عبدالرشید ، شمس الرحمن اقوام اذاد خیل ساکنہ گدار پالس شامل ہیں۔تمام ملزمان پر 2012 میں قتل اعلی عدلیہ میں قتل ثابت ہونے پر 2018میں پشاور ہائی کورٹ ایببٹ آباد بنچ کی عدالت کے حکم پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
ضلعی پولیس آفیسر افتخار خان کے مطابق ضلع کولئی پالس کوہستان کی سیشن عدالت میں ویڈیو کیس کی سماعت سے قبل سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے۔تھے
واضح رہے کہ یہ سکنڈل 2012 میں منظر عام پر آیا جس میں علاقائی موسیقی پر پانچ لڑکیاں تالیاں بجارہی ہیں جبکہ ایک لڑکارقص کررہا ہے جبکہ دوسرا موبائل سے فوٹیج بنا رہا ہے۔ویڈیو میں نظر آنے والا اور فوٹیج بنانے والا دونوں سگے بھائی ہیں۔
اس ویڈیو کے منظر عام پہ آنے کے بعد ویڈیو میں نظر آنے والی لڑکیوں کو جرگہ کے حکم پر قتل کر دیا گیا ، لڑکی کے خاندان والوں اور ویڈیو میں نظر آنے والے لڑکوں کے خاندان کے مابین دشمنی کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ بعدازاں بن یاسر اور گل نظر نامی دو بھائی جو اس ویڈیو کے کردار ہیں اُن کے تین سگے بھائیوں کو بھی قتل کردیا گیا ویڈیو کے منظر عام پر آنے پر سپریم کورٹ نے واقع ہے کا نوٹس لیا اور ایک لمبے عرصہ تک کیس کی سماعت چلتی رہی اس ویڈیو کیس کی عالمی میڈیا تک رسائی دینے والا مرکزی کردار افض کوہستانی بھی لڑکی کے خاندان کے ہاتھوں ایبٹ آباد میں قتل ہوا اب تک مجموعی طور پر 9 افراد ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد قتل کیے جا چکے ہیں دونوں خاندانوں کے مابین قتل و غارت کے خدشہ بدستور برقرار ہے

