پاکستان24

28 ملکوں میں 10 ہزار پاکستانی قید: دفتر خارجہ

جنوری 16, 2020

28 ملکوں میں 10 ہزار پاکستانی قید: دفتر خارجہ

پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا ہے کہ اس وقت دنیا کے 28 ممالک میں 10 ہزار کے لگ بھگ پاکستانی شہری جیلوں میں قید ہیں۔

ترجمان نے جمعرات کو بتایا کہ سلامتی کونسل کا اجلاس پاکستان اور چین کی درخواست پر ہوا جو ایک گھنٹہ جاری رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں بتایا گیا پانچ اگست کے اقدام کے بعد حالات کشیدہ ہیں۔ ارکان نے جموں کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا پانچ ماہ میں کل دوسرا اجلاس ہوا۔

”اجلاس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ جموں کشمیر ایک متنازعہ خطہ اور حل طلب مسئلہ ہے۔ سلامتی کونسل کو اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین نے ایل او سی پر بریفنگ دی۔ یو این سیکیورٹی کونسل اجلاس میں کشمیر کو پھر متنازعہ تسلیم کیا گیا۔ بھارت سے کرفیو اٹھانے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ختم کرنے پر زور دیا گیا۔“

وزیر خارجہ کی یواین سیکرٹری جنرل اور صدر سے ملاقاتیں ہوئیں۔

ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل اجلاس میں کشمیر پر بحث ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی جس میں تمام پندرہ اراکین نے حصہ لیا۔ اراکین کی جانب سے پانچ اگست کے بھارتی اقدامات کو تناو میں اضافہ کی وجہ قرار دیا گیا۔ بحث میں پی فائیو اور دیگر ممالک نے مقبوضہ جموں و کشمیرکی صورتحال پر تحفظات کا اظہار کیا۔

”اقوام متحدہ کے گزشتہ روز کے اجلاس نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی فہرست میں ہے۔ اس نے یہ بھی ثابت کیا کہ مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔“

وزیر خارجہ نے سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کے صدور سے بھی ملاقاتیں کیں۔ وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ بھارت کی جانب سے مسلسل جارحانہ رویہ کسی مس کیلکولیشن کا باعث بن سکتا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ یو این سیکیورٹی کونسل اجلاس میں کشمیر کو پھر متنازعہ تسلیم کیا گیا۔ بھارت سے کرفیو اٹھانے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ختم کرنے پر زور دیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت 28 ممالک میں تقریبا 10 ہزار پاکستانی قید ہیں۔ پاکستان کا سفارتی عملہ معاملے کو دیکھ رہا ہے۔ 50 فیصد قیدی کرمنل چارجز میں قید ہیں، کچھ مقامی قوانین کی خلاف ورزی پر قید ہیں۔ پاکستانی قیدیوں کی فلاح اور سہولت کیلئے کام کریں گے۔

ترجمان نے بتایا کہ قیدیوں کی رہائی کیلئے گزشتہ سالوں میں تقریبا 13 ہزار کونسلر میٹنگز ہوئیں۔ پچھلے سال پاکستان کی کوششوں سے تقریبا 1 ہزار قیدیوں کو مختلف ممالک سے رہا کیا گیا۔

مشرق وسطی میں 3 جنوری کے بعد کی تبدیلیوں کے تناظر میں پاکستان خطے کا اہم ملک ہے۔ پاکستان کے ایران کے ساتھ نہایت قریبی اور امریکہ کے ساتھ نہایت دوستانہ تعلقات ہیں۔ صورتحال کے تناطر میں وزیر خارجہ نے اپنے ہم. منصبوں سے رابطے کیے۔

ترجمان کے مطابق وزیراعظم جلد ڈیوس کا دورہ کریں گے۔ نظام حیدر آباد کے حوالے سے چھپنے والی خبروں میں حقائق سے ہٹ کر اعداد و شمار بیان کیے گئے ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے