اپوزیشن رہنما کو آٹے کا ٹرک اور قطاریں
پاکستان میں آٹے کے بحران کے دوران عام لوگ آٹے کے ٹرکوں کے پیچھے قطار میں لگے دکھائی دیتے ہیں مگر پنجاب حکومت نے ٹی وی ٹاک شو میں تنقید کرنے والی اپوزیشن رہنما عظمیٰ بخاری کے گھر ٹرک بھجوا دیا ہے۔
حکمران جماعت تحریک انصاف کے رہنما سوشل میڈیا اور ٹی وی پر مسلسل آٹے بحران کا انکار کر رہے ہیں تاہم صارفین کی بڑی تعداد ان کو آڑے ہاتھوں لے رہی ہے۔
پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں صوبائی فوڈ اتھارٹی کے سربراہ نے اپوزیشن رکن اسمبلی عظمیٰ بخاری کے گھر کے باہر آٹے کا ٹرک بجھوا کر کئی بوریاں ان کے گیٹ کے باہر رکھوائیں اور پھر ایک ویڈیو بیان کے ذریعے اس کی تشہیر کی جس پر ان کو ٹوئٹر صارفین کی گالیوں کا سامنا ہے۔
عظمیٰ بخاری نے ایک بیان میں آٹے کا ٹرک بھجوانے کی مذمت کی اور کہا کہ حکومت ڈرامہ بازی پر اتر آئی ہے ان کو صرف ایک بوری آٹے کی ضرورت تھی جو ان کے نوکروں نے خرید لی تھی۔

سوشل میڈیا صارفین نے پنجاب حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ جو لوگ ٹی وی ٹاک شوز میں نہیں آتے یا ایم پی اے نہیں ہیں ان کے گھر آٹے کے ٹرک کیوں نہیں بجھوائے جاتے تاکہ وہ ٹرکوں کے پیچھے قطار میں کھڑے ہو کر خوار نہ ہوں۔

