پاکستان

فوجی آمر سب سے پہلے میڈیا کو دباتے ہیں: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

مارچ 3, 2021
سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ فوٹو: پاکستان ٹوئنٹی فور

فوجی آمر سب سے پہلے میڈیا کو دباتے ہیں: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

رپورٹ: جہانزیب عباسی

پاکستان کی سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دس رکنی بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کیس میں نظر ثانی درخواستوں پر سماعت کی۔

بدھ کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدالتی کارروائی کو براہ راست نشر کرنے سے متعلق درخواست پر اپنے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز عدالت نے آبزرویشن دی کہ لائیو کوریج انتظامی اور پالیسی معاملہ ہے، عدالت کی آبزرویشن پر دلائل دوں گا،سپریم کورٹ آئین کے تحت بنایا گیا ادارہ ہے،اس ادارہ کو اختیارات آئین فراہم کرتا ہے،آئین سے بالاتر سپریم کورٹ کے پاس کوئی اختیار نہیں،براہ راست عدالتی کاروائی سے ڈسپلن میں بہتری آئے گی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دلائل میں کہا کہ ملک میں 35 سال مارشل لاء رہا، فوجی آمر سب سے پہلے ٹی وی کا پلگ نکالتے ہیں، میں اپنے ملک کا مستقبل ایسا نہیں دیکھنا چاہتا، میں کل کی نشر ہونے والی خبروں سے اتفاق نہیں کر تا، میڈیا نے وہ رپورٹ کیا جو اُن کا دل کیا، میری موجودہ درخواست نظرثانی درخواستوں سے زیادہ ہے۔

مستقبل کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دلائل میں کہا کہ  سپریم کورٹ کو آئین کے تحت اختیارات حاصل ہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ رولز بنانے کا اختیار انتظامی اور پالیسی کا معاملہ ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جواب میں کہا کہ میں متفق ہوں۔

بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا رولز فل کورٹ بناتا ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے پالیسی بنانے کے اختیار کا آئین میں کوئی ذکر موجود نہیں ہے، سپریم کورٹ کا ایک جج بھی رولز کو جوڈیشل حکم کے ذریعے تبدیل کر سکتا ہے۔

جسٹس منیب اختر نے کہا آپ اپنے کیس پر توجہ دیں، اگر رولز کا معاملہ فل کورٹ میں آیا تو کیا آپ فل کورٹ کی کارروائی میں شریک نہیں ہوں گے؟ اس سوال کے دوران جب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بولنے کی کوشش کی تو جسٹس منیب اختر نے کہا پہلے مجھے اپنا سوال مکمل کرنے دیں، تکرار نہ کریں، آپ ہماری معاونت کے لیے یہاں ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جواب دیا کہ کیا یہ سوال پوچھا جا رہا ہے یا معاملہ طے کر لیا گیا ہے۔

جسٹس منیب اختر نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے مکالمے میں کہا لگتا ہے آپ نے میرے سوال کو توجہ سے نہیں سنا،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا میں نے سوال سن لیا ہے۔جسٹس منیب اختر نے جب سوال دوبارہ دہرایا تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جواب دیا جب مجھے فل کورٹ اجلاس کا ایجنڈا بھیجا جائے گا تو میں یہ طے کروں گا مجھے بیٹھنا چاہیے یا نہیں؟

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا انصاف ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے،،میں نے ایک چھوٹی بچی سے پوچھا انصاف ہوتا ہوا نظر کیسے آتا ہے تو مجھے جواب ملا انصاف ہوتا ہوادیکھنے کے لیے یا کمرہ عدالت میں جایا جاتا ہے یا ٹی وی پر دیکھا جاتا ہے۔

جسٹس منیب اختر نے پوچھا کیا انیس سو ساٹھ یا ستر کی دہائی میں انصاف ہوتا ہوا نظر نہیں آتا تھا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا میں اس سوال کا جواب نہیں دینا چاہتا۔

جسٹس منظور احمد ملک نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے مکالمے میں کہا کھلی عدالتی کارروائی میں ایسے اچھا نہیں لگتا آپ مہربانی کرکے دلائل کی جانب توجہ دیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دلائل میں کہا کہ امریکہ میں پہلی جماعت میں آئین پڑھایا جاتا ہے، جب بچہ کالج یا یونیورسٹی جاتا ہے تو آئین اُس کی زندگی کا حصہ بن چکا ہوتا ہے لیکن ہمارے ہاں قانون کے کالج یا یونیورسٹی میں آئین پڑھایا جاتا ہے، قرآن کو بھی غلاف میں ڈال کر رکھ دیا جاتا ہے، پڑھا کم جاتا ہے، یہاں تو بوٹوں والے آتے ہیں اور آئین کو مسخ کر کے چلے جاتے ہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ اپنے دلائل پر فوکس کریں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا یہ میرے دلائل کا حصہ ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کو جدید سائنسی ٹیکنالوجی کو خوش آمدید کہنا چاہیے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا پاکستان کی تاریخ کا متنازعہ ترین فیصلہ ذوالفقار علی بھٹو قتل کیس کا تھا، میں اُسے درست یا غلط نہیں کہہ رہا، سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ نے بعدازاں ذوالفقار بھٹو کیس میں فوجی دباؤ کو تسلیم کیا۔

جسٹس منیب اختر نے پوچھا کہ کیا ذوالفقار علی بھٹو کیس کی اپیل اوپن کورٹ میں ہوئی تھی؟ جسٹس فائز نے جواب دیا کہ مجھے اس کا علم نہیں۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کھلی عدالت میں کارروائی کا یہ مطلب نہیں ہوتا پوری قوم کو بلا لیا جائے، اپ اپنی لائیو ٹیلی کاسٹ کی درخو است پر فوکس کریں،امریکی عدالت میں صرف آڈیو ریکارڈ کی جاتی ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دلائل میں کہا کہ تھرپارکر، پسنی اور گوادرکے عوام تک بھی سپریم کورٹ کی عدالتی کارروائی تک رسائی ہونی چاہیے۔جسٹس منظور ملک نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے مکالمے میں کہا کہ جج صاحب انتہائی ادب سے میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں، پہلے آپ پانی پی لیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا اگر یہ حکم ہے تو میں پانی پی لیتا ہوں۔جسٹس منظور احمد ملک نے کہا کہ اگر یہاں حقیقی معنوں میں بطور وکیل دلائل نہیں دے رہے، آپ اس وقت کھلی عدالت میں عدالتی فیصلوں پر بات کر رہے ہیں، آپ نے یہاں بھی بیٹھنا ہے جہاں اس وقت ہم بیٹھے ہیں، کل آپ پر یہ اعتراض آسکتا ہے کہ آپ فلاں کیس پر رائے دے چکے ہیں اس لیے مقدمہ نہ سنیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا آپ میرے بڑے ہیں،میں فوجداری مقدمات میں آپ کو اپنا استاد مانتا ہوں،مجھے پہلے بھی اس معاملے پر جانچا جا چکا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ براہ راست کوریج کا اختیار قاضی فائز کو نہیں ملے گا پاکستان کے عوام کو ملے گا، امریکہ کی پچاس ریاستوں میں سے سینتالیس ریاستوں میں براہ راست عدالتی کوریج ہوتی ہے، براہ راست کوریج سے تیاری نہ کرکے آنے والے بُرے وکلاء سائلین کے سامنے بے نقاب ہوں گے،ہمیں بھی خود قابل احتساب بنانا چاہیے، تقریبا ہر روز کسی نہ کسی عدالتی فیصلے پر ٹی وی میں تبصرے ہوتے ہیں، کیا پورا سچ دکھایا جاتا ہے، پینتیس سال کا مارشل لاء کا فی ہے، براہ راست کوریج ہوتی تو تین نومبر دو ہزار سات کے واقعے کو پوری قوم دیکھتی،ایک فوجی آمر ٹی وی پر آکر کہتا ہے میرے عزیز ہم وطنو، میرے عزیز ہم وطنو والے سلسلے کو اب ختم ہونا چاہیے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ یہ سیاسی کمنٹ ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دلائل میں عالمی آزادی صحافت کے اعدادوشمار کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا کے 180ممالک میں آزادی صحافت کے معاملے پر پاکستان کا نمبر 147ہے،آزادی صحافت سے متعلق پاکستان کے اعدادوشمار دیکھ کر آج میرا سر شرم سے جھک گیا ہے،قائداعظم اور لیاقت علی خان نے آزادی صحافت کے چارٹر پر دستخط کیے تھے، امریکہ کی پچاس ریاستوں میں سے 47ریاستوں میں سپریم کورٹ کی کارروائی براہ راست نشر ہوتی ہے،عدالتی کارروائی کی براہ نشریات کا مقدمہ قاضی فائز عیسیٰ کا نہیں بلکہ پاکستان کی عوام کا مقدمہ ہے،عدالتی کارروائی براہ راست نشر ہونے سے چند بُرے وکیل جو تیاری کرکے نہیں آتے وہ بے نقاب ہونگے،براہ راست نشریات سے عدالتی کنڈکٹ بھی عوام کے سامنے آئے گا،عدالتی کارروائی کی براہ راست نشریات سے عوام کو سچائی تک رسائی ملے گی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے میری اہلیہ نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط لکھا جس میں درخواست کی گئی کہ ویڈیو لنک کے زریعے کی گئی گفتگو کی ریکارڈنگ فراہم کی جائے لیکن یہ جواب دیا گیاریکارڈ میسر نہیں ہے، ایف بی آر کی طرف سے ۳۵ ملین کی ادائیگی کا کہہ دیا گیا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا وزیر قانون ذاتی حیثیت میں  پیش ہو کر دلائل دینا چاہتے ہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی بات خلاف قانون ہے،پرائیویٹ وکیل پیش ہوکر دلائل نہیں دے سکتا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل غریب عوام کے تنخواہ دار ملازم ہیں کسی اور کے نہیں،حکومت چاہتی ہے میرے خلاف مقدمہ کبھی ختم نہ ہو،حکومت چاہتی ہے مجھ پر اس مقدمے کی تلوار ہمیشہ لٹکتی رہے۔

جسٹس منظور ملک نے کہا جج صاحب بس کر دیں کا فی ہو گئی ہے اُس کے ساتھ، ویسے بھی وہ پنجاب سے تعلق رکھتا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا پنجاب سے ہے تو پھر ٹھیک ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے مکالمے میں کہا کہ کیس کی کاروائی براہ راست نشر کرنے کے معاملے پر مشاورت ضروری ہے، اصل کیس نظر ثانی درخواستوں کا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا عوام میں میری تضحیک ہورہی ہے، میرے لیے اہم کیس کا براہ راست نشر ہونا ہے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ دنیا کہتی رہتی ہے، دیکھنے والی ذات دیکھ رہی ہے آپ کام جاری رکھیں۔

سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صدارتی ریفرنس نظرثانی کیس میں عدالتی کارروائی براہ راست نشر کرنے سے متعلق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کیا جبکہ صدارتی ریفرنس نظرثانی درخواست پر بھی وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کر دیا گیا۔

وفاق کی جانب سے مقدمے کی کارروائی براہ راست نشر کرنے کی مخالفت کی گئی ہے۔

کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی گئی۔

قبل ازیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دس رکنی بینچ کو ذوالفقار علی بھٹو کیس کے فیصلے کی جانب متوجہ کیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ ان کا مقدمہ لائیو ٹیلی کاسٹ کا پہلا ٹیسٹ کیس ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں سب متنازع کیس ذوالفقار علی بھٹو کیس کا ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے