پاکستان پاکستان24

”ریٹائرڈ جنرل کے بھی حقوق ہیں“، درانی کا نام ای سی ایل سے نکالا جائے

مارچ 4, 2021

”ریٹائرڈ جنرل کے بھی حقوق ہیں“، درانی کا نام ای سی ایل سے نکالا جائے

اسلام آباد ہائیکورٹ نے فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا ہے۔

جمعرات کو لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر سماعت کی گئی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اسد درانی کی ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست پر سماعت کی۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے مکالمے میں کہا کہ اسد درانی کا نام انکوائری زیر التوا ہونے کی وجہ سے ای سی ایل میں ڈالا گیا تھا، سارا ریکارڈ دیکھا اس وقت اسد درانی کے خلاف کوئی انکوائری زیر التوا نہیں، نہ کوئی اور بنیاد ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہر عام شہری کی طرح یہ تھری سٹار جنرل ریٹائرڈ ہیں ان کے حقوق ہیں، کوئی گراؤنڈ بتائیں اگر نہیں کوئی وجہ نہیں کہ ان کا نام ای سی ایل پر رکھا جائے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سرکاری وکیل کو مخاطب کیا کہ آپ نے کہا تھا کہ ای سی ایل میں اس لئے رکھا کہ ان کے خلاف انکوائری چل رہی ہے، ریکارڈ کے مطابق اس وقت کوئی انکوائری نہیں چل رہی، درخواست گزار تھری سٹار جنرل ریٹائرڈ ہے اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اب وہ ایک عام شہری ہے اور آزاد گھومنا ان کا حق ہے، کیا وفاقی حکومت کے پاس کھلا چھوٹ تو نہیں کہ کسی کو بھی ای سی ایل میں ڈال دے۔

وزارت دفاع کے نمائندے کو نوٹس کرکے ان سے جواب طلب کرلیا جائے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل

کسی کو بھی بلانے کی کوئی ضرورت نہیں، ریکارڈ کے مطابق اسد درانی کے خلاف کوئی فریش انکوائری نہیں، اسد درانی کا نام ای سی ایل میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں، چیف جسٹس

عدالت نے اسد درانی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے اسد درانی کی درخواست ہدایات کے ساتھ نمٹا دی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے