پاکستان پاکستان24

ڈسکہ الیکشن کیس: سپریم کورٹ کے ججز کی اہم آبزرویشن

مارچ 16, 2021

ڈسکہ الیکشن کیس: سپریم کورٹ کے ججز کی اہم آبزرویشن

سپریم کورٹ کے جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ ان کی اہلیہ اور بیٹی نے ایک الیکشن میں ووٹ پول کیا اور گھر واپس آ کر مسکراتے ہوئے بتایا کہ انتخابی عمل پُرامن ہے کیونکہ وہ انتخابات فوج کی نگرانی میں ہوئے تھے۔

رپورٹ: جہانزیب عباسی

منگل کو ڈسکہ میں ضمنی انتخاب دوبارہ کرانے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف تحریک انصاف کے امیدوار اسجد  ملہی کی اپیل پر سماعت کرتے ہوئے  عدالت نے تحریک انصاف کے وکیل کو سیاسی دلائل دینے سے روک دیا اور فیصلے کو معطل کرنے کی ابتدائی استدعا بھی مسترد کر دی۔

بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریک انصاف کے وکیل سے کہا کہ جو گفتگو آپ کر رہے ہیں وہ تو دونوں فریقین کی آپس کی باتیں ہیں، صرف قانونی دلائل دیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال کے ریمارکس پر کمرہ عدالت میں ہنسنے کی آوازیں گونجیں تو وکیل نے بتایا کہ الیکشن تو الیکشن کمیشن نے متنازع بنایا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ انتخابی عمل کے دوران تشدد کی حوصلہ افزائی نہیں کر سکتے، ڈسکہ ضمنی انتخاب میں نوے پولنگ اسٹیشنز متاثر ہوئے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ایک موقع پر کہا کہ ان کی بیٹی اور اہلیہ نے ایک انتخاب میں ووٹ ڈالا، وہ مسکراتے ہوئے آئیں اور بولیں انتخابی عمل پر امن ہے، اس وجہ یہ تھی کہ اس وقت فوج کی نگرانی میں انتخاب ہوا۔

جسٹس عمر عطا بندیال کے مطابق الیکشن کمیشن کی ذمہ داری تھی کہ شفاف انتخابات کرائے، الیکشن کمیشن نے فوج کے بجائے پولیس کی سکیورٹی میں انتخابات کرائے، الیکشن کمیشن کے پاس پورے حلقے میں دوبارہ انتخابات کرانے کا جواز موجود ہے۔

عدالت نے پوچھا کہ چیف الیکشن کمشنر نے آئی جی پنجاب سے رپورٹ مانگی تھی، کیا آئی جی پنجاب نے رپورٹ دی؟

الیکشن کمیشن کے وکیل نے بتایا کہ آئی جی پنجاب نے جواب کی صورت میں رپورٹ نہیں دی جس پر بینچ کے سربراہ نے کہا کہ کیا یہ الیکشن کمیشن سے تعاون اور آئینی ادارے کا احترام ہے، چیف الیکشن کمشنر نے آئی جی پنجاب کے خلاف توہین عدالت کے اختیار کا استعمال کیوں نہیں کیا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے دوران سماعت ایک موقع پر کہا کہ ویڈیوز میں نظر آنے والے شواہد کو نظر انداز کر دیں تو ان کے ساتھ بیٹھے جسٹس قاضی محمد امین نے مختلف رائے کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم ویڈیو شواہد کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ اگر مجھے پتہ چلے کہ باہر گولیاں چل رہی ہیں تو میں کبھی ووٹ ڈالنے نہیں جاؤں گا۔

جسٹس قاضی محمد امین کے مطابق یہ فطری انسانی ردعمل ہے، چیف الیکشن کمشنر نے تو آئی جی پنجاب سے رابطہ کرنے کی بھرپور کوشش کی، مگر ان سے رابطہ ہی نہیں ہو سکا۔

کمیشن کے وکیل نے بتایا کہبحلقے میں امن و امان کی خراب صورتحال سے متعلق ہوم ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ بھی موجود ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے