واشنگٹن میں فائرنگ سے نیشنل گارڈز کے دو اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد صدر ٹرمپ کا افغانوں کے لیے اعلان
امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ایک افغان نژاد شخص نے فائرنگ کر کے نیشنل گارڈز کے دو اہلکاروں کو قتل کر دیا ہے۔
واقعے کے بعد صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ کے دور میں لائے جانے والے ہر ایک افغان شہری کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا "ہم ان لوگوں کے امن و امان پر حملوں کو برداشت نہیں کریں گے۔ ان کو ہمارے ملک میں بھی نہیں ہونا چاہئے!” "ہمیں اب ہر ایک ایلین کا دوبارہ جائزہ لینا چاہیے جو بائیڈن کے تحت افغانستان سے ہمارے ملک میں داخل ہوا ہے، اور ہمیں کسی بھی ملک سے لائے گئے کسی بھی ایلین کو نکالنے کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے چاہییں، جو یہاں سے تعلق نہیں رکھتا۔”
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر وہ ہمارے ملک سے محبت نہیں کر سکتے تو ہم انہیں نہیں چاہتے۔
دوسری جانب واشنگٹن میں نیشنل گارڈز پر حملے کے بعد امریکہ نے افغان شہریوں کے لیے تمام امیگریشن پروسیسنگ کو معطل کر دیا ہے۔
امریکہ کی شہریت اور امیگریشن سروسز (USCIS) نے افغان شہریوں کے لیے امیگریشن سے متعلق تمام کارروائیوں کو فوری اور غیر معینہ مدت کے لیے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ایجنسی نے کہا کہ یہ فیصلہ اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک سیکورٹی اور جانچ کے طریقہ کار کا مکمل جائزہ نہیں لیا جاتا۔ اپنے بیان میں، USCIS نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کی حفاظت اس کی اولین ترجیح ہے: "ہمارے وطن اور امریکی عوام کا تحفظ اور تحفظ ہمارا واحد فوکس اور مشن ہے۔”
معطلی افغان درخواست دہندگان سے منسلک تمام امیگریشن درخواستوں کو متاثر کرے گی بشمول زیر التواء اور نئے دائر کیے گئے مقدمات۔
ایجنسی نے اس بات کی نشاندہی نہیں کی کہ جائزہ کب ختم ہو گا یا کب دوبارہ کارروائی شروع ہو سکتی ہے۔

