جعلی رسیدوں پر وزارت خزانہ سے سٹامپ پیپرز کا اجرا، 30 کروڑ کے سکینڈل میں 20 گرفتار
وفاقی سیکریٹری خزانہ کے ماتحت فیڈرل ٹریژری آفس میں سٹام پیپر سکینڈل سامنے آیا ہے۔
درج کیے گئے مقدمے کے مطابق جعلی اور بوگس ٹی آر–32 چالان فارم کے ذریعے قومی خزانے کو 29 کروڑ 64 لاکھ روپے سے زائد کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔
ملزمان نے قومی خزانے میں جمع کرائی رقم کی جعلی رسیدوں پر سٹام پیپرز جاری کرائے۔ برسوں تک کسی نے رسیدیں تصدیق کرنے کی زحمت ہی گوارا نہ کی اور 29 کروڑ 64 روپے چند لوگ آپس میں بانٹ کر کھا گئے۔
سٹامپ وینڈرز کے خلاف تھانہ آبپارہ میں ایف آئی ار درج کروائی گئی مگر مبینہ طور پر پولیس سے معاملات طے کرنے کے بعد ملوث وینڈرز بیرون ملک چلے گئے۔
وزارت خزانہ نے اب اس سکینڈل کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ چند برس سے جاری اس جعل سازی کے ذریعے قومی خزانے کو کم از کم ایک ارب روپے کا نقصان پہنچایا گیا مگر ریکارڈ پر لگ بھگ 30 کروڑ کی رقم ہی لائی جا سکی ہے۔
تھانہ آبپارہ سے مقدمے کا ریکارڈ حاصل کرنے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے اینٹی کرپشن سرکل نے سٹامپ پیپرز سکینڈل میں مبینہ طور پر ملوث 20 ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔
فیڈرل ٹریژری آفس کے توقیر حسین سمیت 71 افراد کو مقدمے میں ملزمان کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔
قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزام میں گرفتار 20 ملزمان کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر کے اسلام آباد کے جوڈیشل مجسٹریٹ احمد شہزاد گوندل نے ایف آئی اے کے تفتیشی افسر کے حوالے کر دیا ہے۔ گرفتار ملزمان میں ڈسپیچ رائیڈر، سینیئر آڈیٹر، سویپر، نائب قاصد، ریکارڈ سورٹر، اسسٹنٹ اکاؤنٹ آفیسر، اور بوگس سٹامپ وینڈرز شامل ہیں۔

