جج صاحب! آپ استغفار پڑھا کریں: ایمان مزاری ایڈووکیٹ
ٹویٹس کیس میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ نے وکلا کے احتجاج کے بعد ملزمان ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو تحریری بیان جمع کرانے کا موقع دے دیا۔
جمعے کو مقدمے کی سماعت کے دوران ایک موقع پر وکلا نے احتجاج اور نعرے بازی بھی کی جس پر جج کو اُٹھ کر چیمبر میں جانا پڑا۔
ہادی علی چٹھہ نے اپنی درخواست پر دلائل کے دوران جج افضل مجوکہ سے پوچھا کہ کیا وہ اُن سے کچھ کہہ رہے ہیں؟
جج افضل مجوکہ نے کہا کہ نہیں، وہ اپنی تسبیح پر ورد کر رہے ہیں۔ وکیل ہادی علی نے جواب میں کہا کہ عبادت کر لیں یا پھر کیس میں دلائل سُن لیں۔
ایمان مزاری ایڈووکیٹ نے اس موقع پر جج افضل مجوکہ سے احتجاجا کہا کہ وہ ورد بعد میں بھی کر سکتے ہیں، کیا وہ تسبیح پر کسی ایجنسی کے نام گنتی کر رہے ہیں۔
اُنہوں نے جج افضل مجوکہ کو تجویز دی کہ وہ استغفار کی تسبیح کیا کریں۔
ملزمان کو اپنا بیان خود جمع کرانے کی مہلت نہ دینے پر بار کے نمائندے عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔
ممبر اسلام آباد بار کونسل راجہ علیم عباسی نے عدالت میں کہا کہ اُن کے 34 سالہ کریئر میں یہ نہیں ہوا کہ بغیر ملزمان کی مشاورت کے سٹیٹ کونسل نے 342 کا بیان جمع کرا دیا ہو، ہم نے سوسائٹی کو بتانا بھی ہے کہ نظام انصاف ڈیلور بھی کر رہا ہے۔
راجہ علیم عباسی ایڈووکیٹ نے کہا کہ مختصر گزارش یہ ہے کہ خدا کا واسطہ ہے ان کا جواب لے لیں پھر جو فیصلہ کریں، کر دیں۔ گزشتہ کل تک تو انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوئے آج گزارش ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔
راجہ علیم عباسی کا کہنا تھا کہ وہ صرف ایک وکیل کے نہیں بلکہ بار ممبر کے طور پر عدالت کے سامنے موجود ہیں۔
ڈسٹرکٹ بار کے صدر نعیم گجر نے کہا کہ اسلام آباد بار ایسوسی ایشن آپ سے انصاف مانگنے آئی ہے۔
عدالت نے کیس کی سماعت پیر کی صُبح تک ملتوی کر دی۔
دوسری جانب ایڈوکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے جج افضل مجوکہ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔
ایمان مزاری اور ہادی علی کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے کیس دوسری عدالت میں ٹرانسفر کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
عدالت کو درخواست میں بتایا گیا ہے کہ ٹرائل میں شفافیت کے تقاضے پورے نہیں کیا جا رہے ۔
درخواست دائر کیے جانے کے بعد ہائیکورٹ برانچ نے ڈائری نمبر لگا دیا ہے۔

