فیض حمید، مطیع اللہ جان اور رجب بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق کی وکالت کا لائسنس معطل
پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے وکیل میاں علی اشفاق کی وکالت کا لائسنس معطل کرتے ہوئے مستقل منسوخی کے لیے معاملہ انضباطی کمیٹی کو بھیجا ہے۔
میاں علی اشفاق اس وقت کئی اہم مقدمات میں پیش ہو رہے ہیں جن میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کی سزا کے خلاف اپیل، صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات و دہشت گردی کا کیس اور یوٹیوبر رجب بٹ کے خلاف کراچی میں درج مقدمے شامل ہیں۔
جمعرات کو لاہور سے جاری کیے گئے بیان میں پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹیو کمیٹی نے کہا کہ کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر اور جنرل سیکریٹری کی جانب سے ارسال کردہ مراسلے پر غور کرتے ہوئے یہ فیصلہ صادر کیا۔
بیان کے مطابق ’کمیٹی کے علم میں یہ بات لائی گئی کہ سوشل میڈیا پر ایک وائرل ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں علی اشفاق ایڈووکیٹ جو ایک ٹک ٹاکر رجب بٹ کی نمائندگی کر رہے تھے، ہڑتال والے دن کراچی کی عدالتوں میں پیش ہوتے نظر آئے۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ کراچی کی سٹی عدالتوں میں وکلاء کی جانب سے ہڑتال سابق لائبریرین ناصر محمد کلہوڑو کے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتی کے خلاف احتجاجاً کی جا رہی تھی، اور اس دوران عدالتی کارروائی مکمل طور پر معطل تھی۔‘
بار کونسل نے اس کے باوجود علی اشفاق ایڈووکیٹ کا گارڈز کے ہمراہ عدالت میں پیش ہونا ہڑتال کی خلاف ورزی اور پیشہ ورانہ ضابطۂ اخلاق کے منافی قرار دیا ہے۔
’ایگزیکٹو کمیٹی نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ علی اشفاق نے اپنے مؤکل کے دفاع کے دوران وکلاء برادری کے خلاف بیانات دیے، جس کے نتیجے میں قانونی برادری کے اندر اختلافات، کشیدگی اور محاذ آرائی پیدا ہوئی۔ اور وکلاء کی اجتماعی ساکھ، اتحاد اور وقار کو شدید نقصان پہنچا۔‘
بار کونسل کی کمیٹی نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد کہا ہے کہ علی اشفاق پنجاب بار کونسل کے ساتھ بطور ایڈووکیٹ رجسٹرڈ ہیں اور بطور وکیلِ ہائی کورٹ بھی نامزد ہیں، لہٰذا وہ ہر حال میں اپنے پیشے کے وقار اور قانونی ضابطۂ اخلاق کی پاسداری کے پابند تھے۔
کمیٹی کے مطابق ’انہوں نے پاکستان لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز رولز 1976ء کے رول 134 اور 175-A کی صریح خلاف ورزی کی جو پیشہ ورانہ بدعنوانی کے زمرے میں آتی ہے۔‘
ایگزیکٹو کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ علی اشفاق کا لائسنس برائے وکالت فوری طور پر معطل کیا جاتا ہے۔ اور ان کا معاملہ ڈسپلنری کمیٹی پنجاب بار کونسل کو ارسال کیا جاتا ہے جو قانون کے مطابق ان کے لائسنس کی مستقل منسوخی کے بارے میں کارروائی کرے گی۔
علی اشفاق ایڈووکیٹ گزشتہ ہفتے اپنے مؤکل کی نمائندگی کرتے ہوئے اُن کے ہمراہ کراچی کی سٹی کورٹس میں واقع عدالت مٰں پیش ہوئے تھے جہاں چند وکلا نے ملزم رجٹ بٹ پر حملہ کر کے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔
علی اشفاق نے اس حملے کا مقدمہ تھانہ تھانے میں درج کراتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ وکلا نے رجٹ بٹ سے بیگ چھین لیا تھا جس میں تین لاکھ روپے تھے۔

