پاکستان

ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو 24 گھنٹوں میں ہر صورت گرفتار کیا جائے: جج مجوکہ کا نیا حکم

جنوری 16, 2026

ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو 24 گھنٹوں میں ہر صورت گرفتار کیا جائے: جج مجوکہ کا نیا حکم

ایڈوکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی کے خلاف متنازع ٹویٹس کیس میں نئے وارنٹ گرفتاری جاری کر کے پولیس کو گرفتاری کے لیے 24 گھنٹے کا وقت دیا گیا ہے۔

جمعے کی صبح جج مجوکہ نے ایڈوکیٹ ایمان مزاری اور ایڈوکیٹ ھادی علی کے خلاف متنازع ٹویٹ کیس میں پولیس کے ڈی آئی جی اور ایف آئی اے کے ڈائریکٹر کو طلب کیا۔

ڈی آئی جی اسلام آباد جواد طارق پیش ہوئے تو جج مجوکہ نے کہا کہ انڈیا، افغانستان جہاں بھی ہوں ملزمان ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو گرفتار کر کے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا جائے۔

‏جج مجوکہ نے پولیس افسران سے کہا کہ وارنٹ کی تکمیل نہ ہونے کی صورت میں توہین عدالت کی کاروائی کروں گا۔‏

گذشتہ روز عدالت نے ایڈوکیٹ مزاری اور ایڈوکیٹ ہادی کی ضمانتیں منسوخ کر کے انہیں جوڈیشل لاک اپ میں بند کرنے کا حکم جاری کیا تھا اور ہدایت کی تھی کہ اُن دونوں کا ویڈیو لنک کے ذریعے ۳۴۲ کا حتمی بیان ریکارڈ کیا جائے۔

ایڈوکیٹ ایمان مزاری نے طبیعت ناسازی کے باعث کل ایک دن کی حاضری سے استثنی کی درخواست دائر کی تھی جسے جج مجوکہ نے مسترد کر دیا تھا۔

اس کیس میں این سی سی آئی اے کے تمام سرکاری گواہان اپنا بیان ریکارڈ کروا چکے ہیں اور صرف دو پر جرح ہونا باقی ہے جبکہ ایڈوکیٹ ہادی نے دیگر گواہان پر اپنی جرح مکمل کر لی ہے۔

جج مجوکہ نے ایڈوکیٹ ایمان مزاری کے خلاف کیس میں احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسلام آباد سے بندہ گرفتار نہیں ہوتا تو بلوچستان اور شمالی علاقہ جات سے بندہ کیسے پکڑ کر لائیں گے، این سی سی آئی کا پراسیکیوٹر ایک بار بھی اس کیس میں پیش نہیں ہوا، اس پراسیکیوٹر کو میرے عدالت سے ہٹائیں، اسلام آباد پولیس کے ایس پی پیش ہو کر بتائیں کہ وارنٹ کی تعمیل کیوں نہیں ہوئی۔

ایمان مزاری نے گزشتہ روز ٹویٹ کیا تھا کہ اگرعدالت مجھے بیماری میں گرفتار کرنا چاہتی ہے تو کر لے۔ اس ٹرائل کا مقصد پہلے دن سے ہمیں جیل بھیجنا ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے