ضمانتیں بحال تین دن میں ٹرائل مکمل کرائیں: جسٹس اعظم خان
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانتیں بحال کر دی ہیں۔
منگل کو ٹویٹس کیس میں جج مجوکہ کی جانب سے منسوخ کی گئی ضمانتوں کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اعظم خان نے دائر اپیل پر بحال کیا۔
مختصر سماعت کے دوران جسٹس اعظم خان نے پوچھا کہ کیا ملزمان عدالت میں موجود ہیں؟تین دن دے رہا ہوں، جائیں اور ٹرائل مکمل کرائیں۔
اعظم خان نے کہا کہ وارنٹ گرفتاری بھی معطل کر رہا ہوں۔
اُن کی جانب سے ایڈووکیٹ کامران مرتضیٰ پیش ہوئے تھے جس کے بعد گزشتہ روز ایک دن کے لیے حفاظتی ضمانت کے تحت ہائیکورٹ میں پیش ہونے کی مہلت دی گئی تھی۔
دونوں کے خلاف ٹویٹس کیس میں جج مجوکہ نے ضمانت منسوخ اور گواہوں پر جرح کا حق ختم کرنے کا آرڈر حکم کیا تھا۔
جسٹس اعظم خان کے پوچھنے پر اپیل کنندگان کے وکیل کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ م ٹرائل کورٹ کا آرڈر کالعدم اور گواہوں پر جرح کے لیے ایک ہفتے کی مہلت چاہیے۔
جسٹس اعظم خان نے گواہوں پر جرح مکمل کرنے کے لیے چھ دن کا وقت دینے کی استدعا مسترد کی اور حکم دیا کہ گواہوں پر تین دن میں جرح مکمل کریں۔
جسٹس اعظم خان نے ہدایت کی کہ ٹرائل اچھے ماحول میں مکمل کرں اور کسی قسم کا خلل نہیں ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ جسٹس اعظم خان پہلے اسلام آباد کی ضلعی عدالت کے جج تھے جن کو حکومت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا جج لگایا۔
سیشن جج افضل مجوکہ کی عدالت میں اب ایک بار پھر ایمان مزاری ایڈووکیٹ استغاثہ کے گواہوں پر جرح کریں گی۔

