پاکستان

ایمان مزاری اور ہادی علی کی دہشت گردی کے مقدمے میں دو دن کی حفاظتی ضمانت

جنوری 21, 2026

ایمان مزاری اور ہادی علی کی دہشت گردی کے مقدمے میں دو دن کی حفاظتی ضمانت

ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف دہشتگردی کی دفعات کے تحت درج مقدمے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اعظم خان دو دن کی حفاظتی ضمانت دے دی ہے۔

ایمان مزاری اور ہادی علی نے گزشتہ رات اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے صدر کے دفتر میں گزاری تھی جہاں باہر احاطے میں پولیس اہلکار اُن کی گرفتاری کے لیے محاصرہ کیے کھڑے تھے۔

‏بدھ کو ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جانب سے وکیل کامران مرتضی نے عدالت کو پس منظر سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ٹویٹس کیس میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل میں ضمانت مانگی تھی۔

‏کامران مرتضی نے بتایا کہ انہوں نے عدالت کے حکم پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو پیش ہونے کا کہا۔

سینیئر وکیل نے تسلیم کیا کہ اُن کی وجہ سے یہ ہوا کہ دونوں کو یہاں عدالت تک لایا گیا اور ایک کیس میں ضمانت ملنے کے بعد ایک پرانی ایف آئی آر میں گرفتاری کی کوشش ہوئی۔

کامران مرتضیٰ نے کہا کہ اُن کی وجہ سے دونوں وکلا یہاں رکے، یہ تو تعجب کی بات ہے کہ ایک پرانے مقدمے میں گرفتاری کی جائے۔

انہوں نے بینچ کو مخاطب کر کے کہا کہ اس عمارت میں میرا بھی اتنا ہی حصہ ہے جتنا آپ کا ہے، یہ بہت برا لگتا ہے کہ ایک وکیل کو نئی ضمانت کے بعد یوں پرانے مقدمے میں گرفتار کر لیں۔

‏جسٹس اعظم خان نے پوچھا کہ یہ کب کی ایف آئی آر ہے؟

‏ایڈووکیٹ کامران مرتضی نے بتایا کہ یہ 26 جولائی 2025 کی ایف آئی آر ہے، اس کے بعد درجنوں مرتبہ ایمان مزاری عدالت میں پیش ہوئیں، اب یہ ایف آئی آر نکال لائے ہیں کہ فائرنگ کی اور ملک دشمنی بھی کی۔

وکیل نے عدالت میں ایف آئی آر پڑھ کر سنائی، جس میں دونوں وکلا پر دہشت گردی کی دفعات لگائی گئیں۔

‏جسٹس اعظم خان نے پوچھا کہ اس کیس میں حفاظتی ضمانت چاہیے؟

‏کامران مرتضی ایڈووکیٹ نے استدعا کی کہ صرف اس کیس میں ہی نہیں، کیونکہ ہمیں علم نہیں کہ باہر جائیں اور کسی کو چھیڑنے یا کوئی اور کام کرنے کا مقدمہ درج کر کے لے آئیں۔

انہوں نے استدعا کی کہ پولیس کو پابند کیا جائے کہ پہلے بتائیں کہ دونوں پر مزید کتنے مقدمات ہیں۔

کامران مرتضیٰ نے اپنے مؤکلین کے بارے میں کہا کہ یہ دونوں سب کچھ ہو سکتے ہیں ملک دشمن ہرگز نہیں ہو سکتے۔ یہ حکومت کے مخالف ہو سکتے ہیں لیکن ملک دشمنی کا الزام غلط ہے، عدالتی فیصلوں کی نظیریں لے کر آیا ہوں ان کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔

‏جسٹس اعظم خان نے کہا کہ اس کیس میں دو دن کے لیے حفاظتی ضمانت دے دیتے ہیں، باقی دیکھ لیتے ہیں، گزشتہ روز والے ٹویٹس مقدمے میں الگ سے درخواست لائیں تاکہ دی گئی ضمانت میں توسیع کا حکم جاری کیا جائے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے