پاکستان

ہائیکورٹ سے ٹرائل کورٹ جاتے ہوئے ایمان مزاری اور ہادی علی گرفتاری، وکلا پر پولیس کا تشدد

جنوری 23, 2026

ہائیکورٹ سے ٹرائل کورٹ جاتے ہوئے ایمان مزاری اور ہادی علی گرفتاری، وکلا پر پولیس کا تشدد

پاکستان میں انسانی حقوق کی کارکن اور وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ایڈووکیٹ ہادی علی چٹھہ کو ٹویٹس کیس میں پیشی کے لیے عدالت جاتے ہوئے اسلام آباد میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے تین دن سے ہائیکورٹ بار کے دفتر میں پناہ لے رکھی تھی تاکہ چھ ماہ قبل درج کرائے اور اچانک سامنے لائے گئے دہشت گردی کے مقمدے میں ضمانت حاصل کر سکیں۔

ایمان مزاری اور ہادی علی کو سرینا ہوٹل کے باہر انڈر پاس کے قریب پولیس نے گرفتار کیا۔ دونوں ہائیکورٹ بار عہدیداران اور وکلاء کے ہمراہ ڈسٹرکٹ کورٹس جا رہے تھے۔

جمعے کی صبح جب ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر، سیکریٹری اور دیگر وکلاء کے ہمراہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس جانے کے لیے روانہ ہوئے تو پولیس نے انہیں سرینا ہوٹل کے قریب انڈر پاس سے حراست میں لے لیا-

گرفتاری کے دوران موقع پر موجود صحافیوں سے موبائل فون چھین لیے گئے۔ بعد ازاں ایمان مزاری کو تھانہ ویمن منتقل کر دیا گیا جہاں ان کی گرفتاری کی خبر پھیلتے ہی وکلاء کی بڑی تعداد تھانے کے باہر جمع ہونا شروع ہو گئی۔

اس دوران وکلاء کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور تشدد کے الزامات بھی سامنے آئے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر واجد گیلانی نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے نہ صرف ان پر تشدد کیا بلکہ گاڑی کے شیشے توڑ کر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو گرفتار کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سیکریٹری بار کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جو وکلاء کی تضحیک اور عدالتی نظام پر دباؤ ڈالنے کے مترادف ہے۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے