امریکی حملے میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت، ایران میں سوگ
ایران نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایک بڑے حملے میں موت کی تصدیق کی ہے.
اتوار کی صبح ایران کے سرکاری ٹی وی نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کی تصدیق کی جس سے ایران کے مستقبل پر سوال کھڑے ہو گئے ہیں اور خطے میں عدم استحکام کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند گھنٹے قبل ان کی موت کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے ایرانی عوام کو ’اپنا ملک واپس لینے‘ کا ’سب سے بڑا موقع‘ ملا ہے۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ 86 سالہ سپریم لیڈر تہران کے وسط میں واقع اپنے کمپاؤنڈ میں ہونے والے فضائی حملے میں مارے گئے۔ سیٹلائیٹ تصاویر میں اس مقام کو شدید بمباری کے بعد تباہ حال دِکھایا گیا ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے نے رپورٹ کیا کہ سپریم لیڈر کے اعلیٰ مشیر علی شمخانی اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔
سرکاری ٹی وی نے کہا کہ ’ان کی اپنے دفتر میں موت اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ہمیشہ عوام کے ساتھ کھڑے رہے، اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں پیش پیش رہے اور اور اُس چیز کا ڈٹ کر سامنا کرتے رہے جسے حکام عالمی تکبر سے تعبیر کرتے ہیں۔‘
ایرانی کابینہ نے خبردار کیا ہے کہ اس سنگین جرم کا ہر حال میں بھرپور اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔
پاسدارانِ انقلاب نے بھی کہا ہے کہ خامنہ ای کی ہلاکت پر سخت، فیصلہ کن اور دشمن کے لیے پچھتاوا بن جانے والی سزا دی جائے گی۔
جب سنیچر کی رات آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کی افواہیں پھیلنا شروع ہوئیں تو تہران میں کچھ افراد نے گھروں کی چھتوں اور اپنے گھروں کے اندر خوشی کا اظہار کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پیغام میں لکھا کہ خامنہ ای تاریخ کے بدترین لوگوں میں سے ایک تھے اور اب مر چکے ہیں۔
ٹرمپ نے ایک پیغام میں لکھا کہ خامنہ ای جو تاریخ کے بدترین لوگوں میں سے ایک تھے، اب مر چکے ہیں۔ انہوں نے شدید اور نشانے پر مبنی بمباری سے خبردار کیا جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ پورے ہفتے بلکہ اس سے بھی زیادہ عرصے تک جاری رہے گی، اور کہا کہ یہ کارروائی ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے۔

