دلچسپ و عجیب متفرق خبریں

پاکستان میں فرانس24 کی ’فیک نیوز‘ کو ’تحقیقاتی رپورٹ‘ بنا کر پیش کرنے والے صحافی کون؟

مارچ 29, 2026

پاکستان میں فرانس24 کی ’فیک نیوز‘ کو ’تحقیقاتی رپورٹ‘ بنا کر پیش کرنے والے صحافی کون؟

پاکستان میں بعض صحافیوں، دانشوروں اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے معروف بین الاقوامی نشریاتی ادارے فرانس24 سے منسوب ایک ایسی ویڈیو شیئر کی جو مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی تھی-

یہاں سب سے دلچسپ امر یہ تھا کہ ویڈیو شیئر کرنے والوں‌ نے اس کو ’فیک نیوز‘ کا پردہ چاک کرنے والی ’تحقیقاتی خبر‘ کے طور پر پوسٹ کیا تھا جو کہ بذات خود ’فیک اور پروپیگنڈہ نیوز‘ تھی-

یہ ویڈیو بعد ازاں بہت سے صحافیوں‌ نے اپنے ایکس اکاؤنٹس سے ہٹا دی ہے-

سوشل میڈیا پر اس طرح کی غلط معلومات پھیلانے والے اکاؤنٹس پر نظر رکھنے والے ایک ماہر نے بتایا کہ حب الوطنی کے نام پر یا بظاہر اپنی وطن پرستی کے جذبے سے سرشار بہت سے پاکستانی دانستہ یا نادانستہ طور پر وہی کر رہے ہیں جس کی وہ مذمت کر رہے ہوتے ہیں-

اُن کا کہنا تھا کہ اس خاص واقعے میں ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے سے منسوب اے آئی ویڈیو کو تحقیقاتی رپورٹ قرار دے کر خود کو بھی وہی ثابت کیا جس کے خلاف وہ بات کر رہے ہیں یعنی ڈس انفارمیشن پھیلانے والے یا پروپیگنڈا کرنے والے-

ڈیجیٹل یا سائبر سپیس پر غلط معلومات پھیلانے والوں پر نظر رکھنے والے ماہر نے درخواست کی کہ اُن کا نام شائع نہ کیا جائے کیونکہ ایسی صورت میں‌ اُن کو نشانہ بنائے جانے کا خطرہ ہے-

پاکستان ٹی وی کے نام سے شروع کیے گئے نئے انگریزی چینل نے بھی اسی سے ملتی جلتی رپورٹ اپنے خبرنامے کا حصہ بنائی ہے جو فرانس24 کے لوگو اور نیوز کاسٹر کے ساتھ سکرین پر اے آئی سے بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ہے-

پاکستان ٹی وی نے اپنی خبر میں‌ یہ نہیں‌ بتایا کہ تحقیقات کس نے کیں اور اس رپورٹ کا ماخذ کیا ہے جبکہ خبر کے ساتھ گرافکس لگ بھگ وہی شامل کیے جو فرانس24 کی اے آئی ویڈیو میں ہیں-

فرانس 24 کی یہ رپورٹ سنیچر کی شب دس بجے کے لگ بھگ پاکستان میں سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر وائرل کی گئی-

اس ویڈیو کے ساتھ اردو اور انگریزی میں کیپشن لکھے گئے- وقاص مغل نامی ایکس ہینڈل سے یہ ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا گیا کہ ’فرانسیسی چینل France 24 نے سائبر انٹیلیجنس رپورٹ شئیر کرتے ہوئے بتایا کہ حکومتی سطح پر انڈیا اور افغانستان سے آپریٹ ہونے والے فیک X اکاونٹس کے ذریعے پاکستان کی ریجنل سفارتکاری کو نقصان پہنچانے اور امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہیں جس میں بھارتی حکومت ملوث ہے-‘

اس فیک نیوز کو تحقیقاتی خبر بنا کر پوسٹ کرنے والوں میں پاکستان کے متعدد صحافی بھی شامل ہیں جن میں وسیم عباسی، زاہد گشکوری، سبوخ سید، شمع جونیجو اور طارق حبیب شامل ہیں- متعدد اکاؤنٹس نے بعد ازاں تنقید پر اپنی پوسٹ کو ڈیلیٹ کیا یا ری پوسٹ کو ہٹا دیا ہے-

دیگر جن بڑے اکاؤنٹس سے اس ویڈیو کو طویل مضمون کے ساتھ شیئر کیا گیا اُن میں سرفہرست ’دی انٹیل کنشورشیم‘ ہے جس کی پوسٹس کا جائزہ لینے کے بعد معلومات ہوتا ہے کہ یہ معلومات کے پھیلاؤ سے زیادہ انڈیا اور افغانستان سے متعلق غلط معلومات یا نفرت انگیز مواد شیئر کرنے کے لیے بنایا گیا ہے-

عمران شاہین، مزمل، اسعد فخرالدین، طارق وسیم گجر، نواز شریف فورس، شرمین خُرم، ایڈووکیٹ مدیحہ سید، اَنسنسرڈ اپڈیٹس، دی پَنچ، ریڈ مارکر اور دیگر درجنوں اکاؤنٹس نے فیک نیوز یا پروپیگنڈے کا پردہ چاک کرنے والی اے آئی ویڈیو کو تحقیقاتی رپورٹ بنا کر شیئر کیا-

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے