پاکستان

پنجاب پولیس کی لیڈی کانسٹیبل نے اپنے ہی محکمے کے اہلکار سے تحفظ مانگ لیا، مقدمہ درج

اپریل 2, 2026

پنجاب پولیس کی لیڈی کانسٹیبل نے اپنے ہی محکمے کے اہلکار سے تحفظ مانگ لیا، مقدمہ درج

صوبہ پنجاب کے ضلع قصور میں ایک لیڈی پولیس کانسٹیبل نے اپنے ہی محکمے کے اہلکار کے خلاف مقدمہ درج کراتے ہوئے سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں اور افسران سے تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے-

تھانہ صدر قصور میں درج کیے گئے مقدمے میں‌ لیڈی کانسٹیبل گلفشاں نے بتایا ہے کہ وہ شادی شدہ ہے اور اُن کے شوہر روزگار کے سلسلے میں‌ بیرون ملک مقیم ہیں-

ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ ملزم اصغر علی پولیس اہلکار ہے اور اُن کو تین ماہ سے ہراساں کر رہا ہے-

درج مقدمے میں‌ کہا گیا ہے کہ ’ملزم دھمکی آمیز پیغامات بھیجتا ہے اور اُس نے ایک جعلی نکاح نامہ تیار کر کے یونین کونسل میں رجسٹرڈ بھی کرا رکھا ہے- ملزم نے درخواست گزار کے شوہر سے رابطہ کر کے نکاح نامہ بھجوایا اور مختلف نوعیت کے الزامات لگائے-‘

لیڈی کانسٹیبل گلفشاں نے بتایا کہ مقدمہ درج کرانے سے قبل ’ملزم نے مجھے راستے میں روکا اور دھمکی دی کہ میری بات سنو ورنہ تیزاب ڈال دوں گا، زہر کا انجکشن لگا دوں گا، تمہارا چہرہ خراب کر دوں گا پھر دیکھتا ہوں تم سے شادی کون کرتا ہے-‘

ایف آئی آر کے مطابق وقوعے کا وقت 18 مارچ ہے جبکہ پہلے رپٹ درج کی گئی اور یکم اپریل کو مقدمہ درج کیا گیا-
پولیس کے مطابق دو اپریل کو ایف آئی آر پر کارروائی کے لیے تھانے سے اہلکار روانہ کیے گئے-

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے