ایران کی مذاکرات پر آمادگی، ’نواز شریف نے اہم کردار ادا کیا‘، ابصار عالم کے دعوے پر بحث
پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے لیے رابطہ کاری، سہولت کاری اور میزبانی پر دنیا بھر کے میڈیا میں تبصرے جاری ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے ہمدردوں، کارکنوں اور دونوں پارٹیوں سے منسلک صحافیوں کے مابین بحث بھی طول پکڑتی جا رہی ہے-
پاکستان کی حکومت کو متحارب فریقوں کے درمیان رابطہ کار بننے اور مذاکرات کی میزبانی حاصل کرنے پر بڑی تعداد میں دنیا بھر سے ماہرین، تجزیہ کار اور صحافی سراہ رہے ہیں جبکہ بہت سے ایسے افراد بھی ہیں جو اس پر سوال اُٹھا رہے ہیں-
ایسے میں پاکستان کے سینیئر ٹی وی اینکر اور تجزیہ کار ابصار عالم کے یوٹیوب پر کیے گئے ایک ولاگ میں تبصرے کا ٹکڑا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وائرل ہے-
انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے مذاکرات کو ممکن بنانے کے لیے پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی کردار ادا کیا-
ابصار عالم کا دعویٰ ہے کہ ایک مرحلے پر ایران نے مذاکرات میں حصہ نہ لینے کی بات تھی کیونکہ اُن کا اعتماد نہیں تھا-
وائرل ویڈیو میں ابصار عالم کہہ رہے ہیں کہ ’اُن کے ساتھ اسحاق ڈار، شہباز شریف اور آپ کو حیرانگی ہوگی ایک بات جو میں آپ سے شیئر کرنے جا رہا ہوں- ابھی تک وہ چھپا پلیئر سامنے نہیں آیا تھا، اُس نے سارا کریڈٹ دوسروں کو دیا ہے، لیکن ایک ایسا مرحلہ آیا دو دفعہ کہ مذاکرات بالکل ٹوٹ گئے تھے، ایران کسی پر بھی اعتماد نہیں کر رہا ہے، اور ایران جنگ جاری رکھنا چاہ رہا تھا، انہوں نے پوری تیاری کر لی تھی کہ اُن کو پر حملہ ہوگا اور وہ جوابی حملہ کریں گے- اور اس وقت پاکستان کے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے اہم رول پلے کیا ہے دو دفعہ اور وہ اس طرح سے پلے کیا انہوں نے کہ، جو ایران کے صدر مسعود پزشکیان ہیں، اُن کے ساتھ اُن کا ذاتی تعلق بہت گہرا ہے-‘
ابصار عالم اس ولاگ میں میں مزید بتا رہے ہیں کہ ’اور میں آپ کو یاد کرا دوں کہ جو پچھلے سال جنگ ہوئی تھی امریکہ اور ایران کے درمیان، اُ کے بعد دو اگست کو ایران کے صدر مسعود پزشکیان پاکستان کے دورے پر آئے- صدر منتخب ہونے کے بعد وہ اُن کا پہلا غیرملکی دورہ تھا جنگ کے بعد، اور انہوں نے اسلام آباد کے بجائے لاہور لینڈ کیا- اور وہاں پر اُن کا استقبال کیا تھا نواز شریف نے، اور وزیراعلٰی پنجاب مریم نواز شریف نے- اس کے بعد وہاں اُن کی بات چیت ہوئی، ٹھہرے رہے اور نواز شریف کے ساتھ انہوں نے کافی دیر مذاکرات کیے- اس کے بعد انہوں نے علامہ اقبال کے مزار پر حاضری دی، اور پھر وہ اسلام آباد کے دورے پر آئے اور پھر اُن کا آفیشل دورہ شروع ہوا- اُس وقت لوگ حیران ہو رہے تھے کہ مسعود پزشکیان نے لاہور کیوں لینڈ کیا، اور اُن کا استقبال نواز شریف نے کیوں کیا ایئرپورٹ پر جا کر- تو یہ پچھلے سال کی بات ہے، تو اس کے اثرات، اُس کا نتیجہ اب نکلا جا کے- جب نواز شریف نے مداخلت کی، مسعود پزشکیان کے ذریعے انہوں نے ایرانی قیادت سے بات کی اور کہا کہ یہ وہ موقع ہے کہ ایرانی کو اپنی پوزیشن چھوڑ کے، اپنے عوام کے لیے اعتماد کرنا پڑے گا مذاکرات کے اس عمل پر جو پاکستان شروع کر رہا ہے- اور اس کے بعد بات آگے بڑھی- اس کے بعد آپ نے دیکھا ہوگا کہ نواز شریف نے پوسٹ بھی کیا اس پر، جس میں انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو مبارک باد بھی دی-‘
اس ویڈیو کلپ کو ری پوسٹ کرتے ہوئے راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کار محمد اشفاق نے لکھا کہ ’اپنے سرکل میں نواز شریف کا مجھ سے بڑا فین اور کوئی نہیں۔ مگر میاں صاحب کو ہر مضمون میں مائی بیسٹ فرینڈ کی طرح فٹ کر دینے کی یہ عادت اتنی ہی قبیح ہے جتنی پی ٹی آئی کی جانب سے دنیا کے ہر معاملے کو خان صاحب سے جوڑ دینے کی۔ آج کی دنیا میں دونوں ارریلیونٹ ہو چکے ہیں-‘
عمران حبیب نامی ایکس ہینڈل سے ٹویٹ کی گئی اس ویڈیو کلپ پر تبصرہ کرتے ہوئے وسیم ساجد نامی ایک صارف نے لکھا کہ ایران میں مسعود پزشکیان اتنے ہی متعقلہ یا ریلیونٹ ہیں جتنا کہ آج کل نواز شریف سیاست یا حکومتی فیصلوں میں ہیں-
عدنان اے خان نامی صارف نے لکھا کہ وہ مرد بحران ہیں، اور یہ سمجھ میں آنے والی بات ہے- ماضی میں زرداری کی طرح اُن کی خدمات کو مدنظر رکھا جائے تو ایسا ہی ہے-

