پگڑی پر پابندی، کیا یورپ کی برداشت صرف دعووں تک محدود ہے؟ شہزاد حسین کا کالم
یورپ خود کو انسانی حقوق، مذہبی آزادی، مساوات اور برداشت کا علمبردار قرار دیتا ہے، لیکن جب کسی انسان کی مذہبی شناخت ہی اس کے لیے کسی جگہ داخلے کی رکاوٹ بن جائے تو پھر ان دعوؤں پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
سالزبرگ، آسٹریا میں واقع کول ماما ہوٹل سے متعلق ایک افسوسناک معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں مبینہ طور پر دو سکھ افراد کو پگڑی پہن کر ہوٹل آنے سے منع کیا گیا۔ اگر یہ واقعہ اسی طرح پیش آیا ہے تو یہ محض ایک معمولی ہوٹل پالیسی کا معاملہ نہیں، بلکہ مذہبی آزادی، انسانی وقار اور مساوی سلوک سے متعلق ایک سنجیدہ سوال ہے۔
سکھ کے لیے پگڑی محض سر پر باندھا جانے والا کپڑا نہیں بلکہ اس کے مذہب، ثقافت، تاریخ اور شناخت کا اہم حصہ ہے۔ کسی سکھ سے یہ کہنا کہ وہ اپنی پگڑی کے ساتھ ہوٹل نہیں آ سکتا، دراصل اسے یہ پیغام دینا ہے کہ اسے اپنی شناخت کے ساتھ قبول نہیں کیا جا رہا۔
سوال یہ ہے کہ ایک مہذب معاشرے میں کسی انسان کے مذہبی لباس سے آخر اتنا مسئلہ کیوں ہو؟ اگر کسی شخص کی پگڑی سے کسی دوسرے فرد کے حقوق متاثر نہیں ہوتے اور کوئی حقیقی حفاظتی خطرہ موجود نہیں، تو محض مذہبی شناخت کی بنیاد پر پابندی عائد کرنا کس اخلاقی اصول کے تحت درست قرار دیا جا سکتا ہے؟
یہاں یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ سالزبرگ جرمنی میں نہیں بلکہ آسٹریا میں واقع ہے۔ تاہم ایسا واقعہ یورپ میں موجود نسل پرستی، مذہبی تعصب اور ثقافتی امتیاز کے وسیع تر مسئلے پر ضرور سوال اٹھاتا ہے۔
جرمنی سمیت یورپ کے کئی معاشروں میں نسل پرستی اور مختلف مذہبی و ثقافتی گروہوں کے ساتھ امتیازی سلوک ایک سنجیدہ مسئلہ رہا ہے۔ کسی پورے ملک کے تمام شہریوں کو نسل پرست قرار دینا درست نہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ترقی یافتہ اور طاقتور ممالک کو اپنے معاشروں میں موجود تعصب اور امتیاز کا سامنا کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔
کسی قوم کی عظمت اس بات سے نہیں ہوتی کہ وہ دنیا میں کتنی طاقتور یا امیر ہے۔ اصل عظمت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ اپنے سے مختلف مذہب، رنگ، لباس اور ثقافت رکھنے والے انسان کے ساتھ بھی برابر کا احترام کرے۔
دو سکھ افراد کی پگڑی اگر کسی ہوٹل کے لیے مسئلہ بن جائے تو سوال صرف ان دو افراد کا نہیں رہتا؛ سوال اس سوچ کا بن جاتا ہے جو انسان کو اس کی مذہبی شناخت کے ساتھ قبول کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتی ہے۔
کول ماما ہوٹل کی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اس مبینہ واقعے کی واضح وضاحت کرے اور عوام کو بتائے کہ آیا واقعی ان دونوں سکھ افراد کو پگڑی کی وجہ سے ہوٹل آنے سے منع کیا گیا تھا۔ اگر ایسا ہوا ہے تو اس پالیسی پر نظرثانی ہونی چاہیے۔
کیونکہ حقیقی مہمان نوازی یہ نہیں کہ مہمان اپنی شناخت دروازے پر چھوڑ کر اندر آئے؛ حقیقی مہمان نوازی یہ ہے کہ انسان کو اس کے مذہب، لباس، ثقافت اور وقار سمیت عزت دی جائے۔

