پاکستان

بابا رحمت سپریم کورٹ میں

جنوری 10, 2018

بابا رحمت سپریم کورٹ میں

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کھلی عدالت میں بابا رحمت کا ذکر چھیڑ دیا _  گوجرانوالہ میں تعلیمی مقاصد کیلئے وقف کردہ 99 کنال 10 مرلہ زمین پر قبضے کیخلاف کیس کی سماعتچیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی_1947 میں رحمت علی نے 99 کنال 10 مرلہ زمین تعلیمی مقاصد کیلئے وقف کی تھی _

چیف جسٹس نے کہا کہ تعلیمی مقاصد کیلئے زمین بابا رحمتے نے نہیں میاں رحمت علی نے وقف کی، تعلیم کیلئے وقف کی گئی زمین پر کچی آبادی قائم کردی گئی، وقف زمین پر اب پلازے بن چکے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ پنجاب حکومت وقف شدہ جائیداد پر قبضے کا دفاع کیوں کر رہی ہے، قابضین کیلئے ریاست کیوں فکر مند ہے، بلڈوزر لیکر غیر قانونی تعمیرات گرا دیں _
عدالت نے ہدایت کی کہ ڈی سی گوجرانوالہ وقف کردہ زمین کا سروے کرکے تفصیلی رپورٹ دیں، رپورٹ میں تصاویر کے زریعے صورت حال واضح کی جائے _
کیس کی سماعت 18 جنوری تک ملتوی کردی گئی _

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے