پاکستان

ہر کام کے لیے فوج کی ضرورت کیوں؟ عدالت عظمی

نومبر 18, 2016 < 1 min

ہر کام کے لیے فوج کی ضرورت کیوں؟ عدالت عظمی

Reading Time: < 1 minute

سپریم کورٹ نے مردم شماری کرانے کا حکومتی جواب مسترد کر دیا، چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا ہے کہ عدالتی فیصلوں پر عمل نہیں کرنا تو حکومت سپریم کورٹ کو بند کر دیں، مردم شماری کے لیے فوج کی ضرورت کون سے قانون میں لکھی ہے، حکومت غیر مشروط مردم شماری کرانے کا بتائے _ سیکرٹری شماریات نے عدالت کو بتایا کہ مردم شماری کے لیے فوج کی نگرانی کی شرط مشترکہ مفادات کونسل نے رکھی ہے، اٹارنی جنرل اشتراوصاف نے کہا کہ حکومت کو غیر مشروط مردم شماری کرانے کا مشورہ دوں گا، سپریم کورٹ مہلت دے تحریری یقین دہانی کرا دوں گا، چیف جسٹس نے کہا کہ جون میں از خود نوٹس لیا تھا، مردم شماری نہ ہونے سے ملک مفروضے پر چل رہا ہے، اگر انصاف نہیں کر سکتے تو ہمارا کوئی فائدہ نہیں، سول اداروں کی بات کرتے ہیں مگر ہنگامی صورتحال میں فوج کو بلاتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ فوج بھی اسی ملک کا ادارہ ہے، مردم شماری کے لیے ایک لاکھ 67 ہزار سرکاری ملازمین کی تربیت جاری ہے، دو لاکھ 88 ہزار فوجی اہلکاروں کی ضرورت ہے، کوشش کر کے 48 ہزار پر لے آئے ہیں _ عدالت نے حکومت کو غیر مشروط مردم شماری کی تحریری یقین دہانی کرانے کے لیے یکم دسمبر تک مہلت دیدی _

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے