پروین رحمان قتل کیس
سپریم کورٹ نے سماجی کارکن پروین رحمان قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لیے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیا ہے_ عدالت نے ناقص تفتیش اور کیس خراب کرنے پر سندھ پولیس کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے_ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ ذاتی حیثیت میں پیش ہو کرعدالت کو معاملے پر آگاہ کریں _
وکیل راحیل کامران نے کہا کہ جن پولیس افسران نے تحقیقات کیں انھوں نے کیس کو بگاڑ دیا ہے_ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ایسالگتاہے پولیس اپنی ناکامی چھپانے کی کوشش کررہی ہے، پولیس افسر نے بتایا کہ واقعہ 2013میں پیش آیا_ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ایک سماجی کارکن کاقتل ہوا ملزم کیوں نہیں پکڑا گیا _ پولیس افسر نے بتایا کہ تمام پانچ ملزمان گرفتار کرلیے ہیں، ایک نے اعتراف جرم کیا _
جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کیاپولیس کو تحقیقات کرنانہیں آتیں، کیا پولیس کاکام اب اعتراف جرم پرچلتاہے_ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ جس نے اعتراف جرم کیاٹرائل کورٹ میں انکار کردے گا، پولیس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش ہی نہیں کرتی _
پولیس حکام نے عدالت کو بتایا کہ جن افسران نے کیس خراب کیا ان کے خلاف محکمانہ کاروائی چل رہی ہے_ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ سندھ پولیس کے افسران کوکس جگہ بھیجیں جہاں سے وہ تحقیقات کرناسیکھ کر آئیں_ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ہائی پروفائل کیس ہے اس میں لاپرواہی کیسے ہوگئی، جن افسران نے کیس خراب کیا ان سے پوچھیں انھوں نے کس کے کہنے پر ایسا کیا _
کیس کی سماعت دوہفتے کے لیے ملتوی کر دی گئی _

