چیف جسٹس نے تنخواہ پوچھ لی
سپریم کورٹ میں یو بی ایل کی صدر سیما کامل اور سی ایف او عامر پیش ہوئے تو چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا بنک میں کوئی انسانیت بھی ہے یا نہیں، ریٹائرڈ ملازمین کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا، کیا یہ ریٹائرڈ ملازمین نالی کے کیڑے ہیں، کیا بنک کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں _ سیما کامل نے کہا کہ قانونی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ اخلاقی ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں، آپ کی کتنی تنخواہ ہے؟ بنک کی صدر نے چیف جسٹس کو جواب دیا کہ آپ کو میری تنخواہ معلوم ہوگی_ چیف جسٹس نے کہا کہ میں آپ کے بنک کا ملازم نہیں_ یو بی ایل کی صدر نے کہا کہ تیس لاکھ تنخواہ ہے، سی ایف او نے کہا کہ میری بیس لاکھ تنخواہ ہے _ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کارپوریٹ سیکٹر کا ڈھانچہ ہے، اپنی تنخواہیں تیس اور بیس لاکھ جبکہ ملازمین کی پنشن تیرہ سو ساٹھ روپے مقرر کی گئی ہے _

