ڈی پی او پاکپتن کیس میں رپورٹ
سپریم کورٹ نے پاکپتن کے ڈی پی او رضوان گوندل کے تبادلے پر لئے گئے ازخود نوٹس میں انکوائری افسر خالق داد کی رپورٹ پر وزیراعلی پنجاب اور آئی جی کلیم امام کو تین دن میں اپنا تحریری مؤقف پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ آرٹیکل باسٹھ ون ایف کو بار بار پڑھیں اور تعویذ بنالیں ۔
پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے خاور مانیکا سے رپورٹ پر مؤقف طلب کیا، چیف جسٹس نے پوچھا جی خاور مانیکا صاحب، آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ مانیکا نے جواب دیا کہ سر، رپورٹ میں کئی چیزیں سیاق سباق سے ہٹ کر پیش کی گئی ہیں، کیا اپنی سابقہ بیوی سے بات کرتا، وہ عمران خان سے اس معاملے میں بات کرتی؟
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے، مجھے مجبور نا کریں کہ آپ کے ساتھ سختی سے پیش آوں، چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ آپ کو رپورٹ پر اگر تحفظات ہیں تو تحریری جواب جمع کروا دیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق اس سے قبل انکوائری افسر ڈی جی نیکٹا خالق داد لک نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا کہ احسن جمیل گجر نے وزیراعلی کے سامنے بظاہر پولیس افسران سے دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا اور اس پر فوجداری مقدمہ بنتا ہے یا نہیں، یہ قانونی سوال ہے ۔ انکوائری افسر نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ڈی پی او پاکپتن کا تبادلہ وزیراعلی کے دفتر کی مداخلت پر ہوا، اور آئی جی کلیم امام نے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہونے کا کردار ادا کیا ۔

