زرداری کی گرفتاری یقینی ہے؟
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو خدشہ ہے کہ قومی احتساب بیورو ان کو کسی بھی مقدمے میں گرفتار کر سکتا ہے ۔
آصف زرداری نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی گئی ایک درخواست میں کہا ہے کہ ان کو قبل از گرفتاری ضمانت دی جائے کیونکہ ’مجھے نیب نے تفتیش کے لیے پیش ہونے کے تین نوٹس بھیجے ہیں۔‘
بدھ کو ہائیکورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے کہا ہے کہ ان کو اپنے خلاف نیب میں درج مقدمات کی تفصیل بھی معلوم نہیں، اس لیے عدالت سے استدعا ہے کہ احتساب بیورو سے ’میرے خلاف جاری مقدمات کی تفصیلات بھی طلب کرے۔‘
خیال رہے کہ قومی احتساب بیورو نیب کی جانب سے آصف زرداری کو 20 مارچ کو بھیجے گئے نوٹس میں کہا گیا تھا کہ حالیہ تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ متحدہ عرب امارات اور لیبیا سے صدر پاکستان کو تحفے میں دی گئی تین قیمتی بلٹ پروف گاڑیاں وہ ذاتی استعمال کے لیے ساتھ لے گئے۔
آصف زرداری نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ان کو ٹرائل کے مکمل ہونے تک قبل از گرفتاری ضمانت دی جائے۔ انہوں نے یہ بھی استدعا کی ہے کہ درخواست پر فیصلے تک عبوری ضمانت بھی فراہم کی جائے۔
نیب کے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ’بطور سابق صدر آصف زرداری تینوں بلٹ پروف گاڑیاں سرکاری ادارے کو واپس کرنے کے پابند تھے مگر ’سابق صدر نے اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی ملی بھگت سے ’توشہ خانہ کے قواعد‘ کو غیر قانونی طور پر نرم کر کے دو بی ایم ڈبلیو اور ایک لیگزس گاڑی صرف پندرہ فیصد رقم دے کر حاصل کی ۔‘
آصف علی زرداری کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت پہلے ہی جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے منی لانڈرنگ کرنے کے الزام میں ریفرنس اسلام آباد کی احتساب عدالت میں دائر کیا جا چکا ہے جس میں احتساب عدالت نے ان کو آٹھ اپریل کو طلب کر رکھا ہے ۔

