پاکستان پاکستان24

لاہور حملہ کرنے والی تنظیم کیا ہے؟

مئی 8, 2019

لاہور حملہ کرنے والی تنظیم کیا ہے؟

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بدھ کی صبح کیے گئے خودکش حملے کی ذمہ داری حزب الاحرار نامی تنظیم نے قبول کی ہے ۔

اس حملے میں پنجاب پولیس کے پانچ اہلکاروں سمیت آٹھ افراد مارے گئے ۔

پاکستان میں اس طرح کے تباہ کن خودکش حملوں کی موجد تنظیم کالعدم تحریک طالبان یا ٹی ٹی پی ہے جس نے سب سے پہلے اپنے ارکان کو ٹریننگ دی ۔

سنہ 2010 کے بعد ٹی ٹی پی میں امارات یا سربراہی کی وجہ سے دھڑے بندی شروع ہوئی تو ایک گروپ نے ’پالیسی‘ کی وجہ سے اپنی راہیں الگ کر لیں ۔

اس گروہ بعد ازاں اپنا نام جماعت الاحرار رکھا ۔ اس میں زیادہ تر شدت پسند اسلام آباد کی لال مسجد آپریشن کا بدلہ لینے کے لیے جمع ہوئے تھے ۔

جماعت الاحرار میں سے ایک دھڑا ٹوٹ کر حزب الاحرار کے نام سے سنہ 2014 میں سامنے آیا ۔

لاہور دھماکے میں استعمال کیے جانے والے بارود کی مقدار کو دیکھتے ہوئے تجزیہ کار کہتے ہیں کہ یہ کسی چھوٹی تنظیم کا کام نہیں ۔

سنہ 2017 میں حزب الاحرار نے عمر خالد خراسانی کو اپنا کمانڈر مقرر کیا تھا ۔ مکرم خان نام استعمال کرنے والے خالد خراسانی مہممند ایجنسی سے تعلق رکھتے ہیں ۔

یاد رہے کہ ستمبر سنہ 2018 میں پنجاب کے انسداد دہشت گردی کے محکمے سی ٹی ڈی نے ایک بیان میں حزب الاحرار کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کا دعوی کیا تھا ۔ اس بیان میں کہا گیا تھا کہ اس تنظیم کے دہشت گردوں کو گرفتار کر کے بڑی مقدار میں بارود اور خودکش جیکٹس برآمد کی ہیں ۔

پنجاب پولیس کی جانب سے مرنے والے اور زخمیوں کی فہرست جاری کی گئی ہے جس کے مطابق گجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے 42 سالہ ہیڈ کانسٹیبل محمد سہیل، قصور سے تعلق رکھنے والے 38 سالہ ہیڈ کانسٹیبل شاہد نذیر اور لاہور سے تعلق رکھنے والے 34 سالہ کانسٹیبل محمد سلیم شامل ہیں ۔

شدید زخمی اہلکاروں میں قصور سے تعلق رکھنے والے 30 سالہ کانسٹیبل محمد صدام حسین، ہیڈ کانسٹیبل گلزار علی، 21 سالہ کانسٹیبل محمد اعجاز الحق اور کانسٹیبل محمد کامران شامل ہیں جن کی عمر 27 برس ہے اور انہوں نے دو سال قبل پولیس میں ملازمت اختیار کی تھی ۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے