پاکستان پاکستان24

ملک کا مسئلہ جھوٹ ہے،چیف جسٹس

مئی 10, 2019

ملک کا مسئلہ جھوٹ ہے،چیف جسٹس

پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ ملک میں سب سے بڑا مسئلہ جھوٹ اور دھوکے کا ہے۔ سب لوگ دھوکہ دیتے ہیں ۔ ملازمت میں جھوٹ بول کر دو نوکریاں کرنے کے بعد سرکاری ملازم ایک نوکری کا بھی حق دار نہیں رہتا ۔

چیف جسٹس نے یہ بات لبنا بلقیس نامی خاتون کی قبائلی علاقے میں ایک ہی وقت میں دو سرکاری نوکریاں کرنے کے کیس کی سماعت کے دوران کی ۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے سامنے وکیل نے موقف اپنایا کہ لبنا بلقیس 2009 میں 9 ویں گریڈ میں سٹی اسکول ٹیچر لگیں، 2012 میں کنٹریکٹ پر 17ویں گریڈ کی لیکچرار لگیں، جب لیکچرار کی نوکری شروع کی تو ایک سال کے لیے بغیر تنخواہ کے سٹی اسکول ٹیچر والی نوکری سے چھٹی لی ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سال بعد لبنی بلقیس کا کنٹریکٹ مزید بڑھ گیا اور لیکچرار شپ کی نوکری جاری رکھی اور سٹی اسکول ٹیچر والی تنخواہ بھی اکاونٹ میں آتی رہی جس پر وکیل نے عدالت کو بتا یا کہ ہم نے تمام تنخواہیں واپس کر دی ہیں ۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ آپ نے دھوکہ دیا تین سال بعد جا کر سٹی اسکول ٹیچر والی نوکری سے استعفیٰ دیا ۔

جسٹس نے کہا آپ حقائق کو نہیں جھٹلا سکتے، ایک ہی وقت میں دو نوکریاں جاری رکھیں جو کہ جرم ہے، ”اس ملک میں سب سے بڑا مسئلہ جھوٹ اور دھوکے کا ہے۔ سب لوگ دھوکہ دیتے ہیں ۔ اس ملک میں، اگر پڑھے لکھے لوگ دھوکہ دیں گے تو پھر ان پڑھ کیا کریں گے۔“

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ”لبنی بلقیس نے سوچا فاٹا کا معاملہ ہے کسی کو پتہ نہیں چلے گا،اس کے بعد تو لبنی بلقیس کسی پبلک سروس کے حقدار ہی نہیں رہتیں ۔ پہلی غلطی ہی آخری غلطی ہوتی ہے۔“

عدالتی آبزرویشن پر وکیل نے ہائیکورٹ فیصلے کے درخواست واپس لینے کی استدعا کی جسے منظور کرتے سپریم کورٹ نے واپس لینے کی بنیاد پر درخواست خارج کرنے کا حکم جاری کیا ۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے