چیک پوسٹ پر تین ہلاکتوں کا ردعمل
شنزہ نواز ۔ صحافی
پاکستان میں صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے وزیرستان میں فوجی چیک پوسٹ پر پیش آنے والے واقعے جس میں تین شہری ہلاک اور پانچ سیکورٹی اہلکاروں سمیت درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں، پر سیاسی جماعتوں اور سماجی رہنماؤں کی جانب سے ردعمل میں غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے محسن داوڑ جیسے منتخب نمائندے کسی چیک پوسٹ پر حملہ کر سکتے ہیں۔ ”اگر تشدد کا کوئی واقعہ ہوا ہے تو ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ پرامن شہریوں اور سیاسی لوگوں کا احتجاج کرنا حق ہے اور ان کے خلاف بھی تشدد نہیں ہونا چاہیے۔“
انہوں نے کہا کہ ”آپ ان سے اختلاف کریں مگر فاٹا جیسے علاقوں سے آنے والے نوجوان سیاست دانوں سے بات نہیں کریں گے اور کی شکایات کا ازالہ نہیں کریں گے تو پھر ہم نے دیکھا کہ مشرف کے دور میں بلوچستان میں کیا ہوا۔“
بلاول نے کہا کہ جمہوریت اور قانون کی بالادستی کی بات کرنے والوں کو غدار قرار دینا خطرناک راستہ ہے۔ ”اگر اپنے حقوق مانگنے والے سیاست دانوں، شہریوں اور بچوں کو غدار قرار کا لیبل دیں گے تو پھر سب جانتے ہیں کہ 1971 میں کیا ہوا تھا۔“
مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے اس واقعہ پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ہر پاکستانی کی جان قیمتی اور اس کا خون مقدس ہے۔ خون بہے تو حقائق قوم کے سامنے آنے چاہیں ۔
انہوں نے ٹویٹ کیا ہے کہ ”محبت، امن اور مفاہمت ہتھیاروں سے کہیں زیادہ طاقت ور ہیں۔ کیا ہم احتجاج کچلنے اور آوزیں دبانے کی بہت بھاری قیمت ادا نہیں کر چکے؟۔“
مریم نواز نے لکھا ہے کہ پاکستان اندرونی طور پر کشیدگی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ ”دونوں طرف اگر پاکستان کے بیٹے ہیں تو سیاسی، صحافتی حلقوں سمیت ریاست کے تمام اداروں کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا ورنہ ایک بار پھر پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔“
عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ جائز حقوق کیلئے اٹھنے والی آوازحکمرانوں کو کھٹک رہی ہے اور بد حواسی کے عالم میں ایسے فیصلے کئے جارہے ہیں جس سے ملک توڑنے کی جانب بڑھا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ”ملک میں پنجاب اور پختونخوا کے مظاہرین کیلئے الگ الگ قانون ہے،پنجاب میں مظاہرین کو انعامات اور پختون مظاہرین کو گولیاں ماری جا رہی ہیں۔“

آفتاب شیرپاؤ، میاں افتخار حسین اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی شہریوں کی ہلاکت اور فوجی اہلکاروں کے زخمی ہونے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعہ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
پیپلزپارٹی کے چیئرمین کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلاول بھٹو کے بیان کے بعد ان پر تنقید کرنے والے میڈیا ہاؤسز اور ریٹائرڈ فوجی تجزیہ کار سیاست میں آ کر مقابلہ کریں۔

