پاکستان پاکستان24

تین ججوں کے خلاف انکوائری کا حکم

مئی 27, 2019

تین ججوں کے خلاف انکوائری کا حکم

پاکستان کی سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کے ان تین ججوں کے خلاف انکوائری کا حکم دیا ہے جو ایک ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری کا تین سال تک فیصلہ نہ کر پائے تھے۔

چیف جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے قتل کے ملزم نور محمد کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کر لی۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم نور محمد کے خلاف پولیس اسٹیشن شاداب پور میں سنہ 2014 میں قتل کا مقدمہ درج ہوا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عینی شاہدین کے مطابق نامعلوم افراد نے قتل کیا، اس کیس کے نامزد ملزمان اس واقعے میں ملوث نہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مقامی پولیس نے کیس کی تفتیش میں بدنیتی کا مظاہرہ کیا، شریک ملزمان غلام حسین اور غلام حیدر پہلے ہی ضمانت پر ہیں۔

چیف جسٹس نے سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت کی درخواست کا تاخیر سے فیصلے کرنے پر نوٹس لیا۔

2014 میں وقوعہ ہوا، ٹرائل کورٹ نے 2016 میں ضمانت خارج کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ نے سنہ 2016 سے 2019 تک ضمانت کی درخواست ضمانت کا فیصلہ نہیں کیا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس طرح کے معاملات ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ کے خلاف ہیں۔

چیف جسٹس نے سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل کو ہائی کورٹ کے فیصلے کی نقل حاصل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کے ججز کی ضمانت اپیلوں کی فیصلوں سے متعلق دو ہفتوں کی رپورٹ بھی طلب کی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ رپورٹ چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل کو دو ہفتوں میں ارسال کی جائے تاکہ مناسب اقدام کیا جائے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے