پاکستان پاکستان24

دفاعی بجٹ میں اضافہ نہ لینا احسان نہیں

پاکستان کے گذشتہ برس کے بجٹ میں دفاع کے لیے 11 سو ارب سے زائد کی رقم مختص کی گئی تھی تاہم عملی طور پر اضافی اخراجات کی وجہ سے یہ رقم 16 سو ارب سے تجاوز کر گئی تھی۔

جون 5, 2019

دفاعی بجٹ میں اضافہ نہ لینا احسان نہیں

پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ فوج نے دفاعی بجٹ میں سالانہ اضافے نہ لینے کا فیصلے کیا تاہم یہ اقدام قوم پر احسان نہیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ  نے یہ بات لائن آف کنٹرول پر تعینات جوانوں کے ساتھ عید کے دن ملاقات کے موقع پر کہی۔

اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ملک کی فوج نے دفاعی بجٹ میں اضافہ نہ کرنے کا رضاکارانہ فیصلہ کیا ہے۔

سوشل میڈیا سائٹ ٹوئٹر پر عمران خان نے لکھا ہے کہ ”‏ہماری قومی سلامتی کو درپیش گونا گوں چیلنجز کے باوجود افوجِ پاکستان کا آئندہ مالی سال کے دفاعی اخراجات میں رضاکارانہ کمی کا فیصلہ قابل تحسین ہے۔“

انہوں نے کہا ہے کہ اس بچت کے نتیجے میں میسر آنے والا سرمایہ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع اور بلوچستان کی تعمیر و ترقی میں صرف کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ پاکستان میں انتہائی مشکل معاشی صورتحال کے دوران اگلے ہفتے آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کیا جائے گا۔

وزیراعظم کا دفاعی بجٹ کے حوالے سے ٹویٹ

پاکستان میں ملک کے دفاعی بجٹ پر بحث نہیں کی جاتی اور اس حوالے سے سوال کرنے والوں کی حب الوطنی کو مشکوک نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔

دریں اثنا آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ  نے لائن آف کنٹرول پر تعینات جوانوں کے ساتھ عید کا دن گزارا۔


اس موقع پر جنرل قمر جاوید باجوہ نے جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے  دفاعی بجٹ میں سالانہ اضافے نہ لینے کا فیصلے سے متعلق کہا کہ یہ اقدام قوم پر احسان نہیں۔ ”ہم ایک ہیں اور یہ اقدام ہر قسم کے حالات میں یکجہتی کے عزم کا اعادہ ہے۔“


 آرمی چیف  کا کہنا تھاکہ بجٹ کٹوتی کو دفاعی صلاحیت اور جوانوں کے معیار زندگی پر اثرانداز کئے بغیر آنے والے مالی سال میں دیگر امور میں ایڈجسٹمنٹ سے پورا کیا جائے گا۔

پاکستان کے گذشتہ برس کے دفاعی بجٹ کے لیے 11 سو ارب سے زائد کی رقم مختص کی گئی تھی تاہم عملی طور پر اضافی اخراجات کی وجہ سے یہ رقم 16 سو ارب سے تجاوز کر گئی تھی۔

وزیراعظم عمران خان کے دفاعی بجٹ کے حوالے سے ٹویٹ پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر اکثر صارفین نے فوج کے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے تاہم بعض صارفین کے مطابق یہ فیصلہ آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکج کے حصول کے لیے کیا گیا۔

آرمی چیف عید کی نماز ادا کر رہے ہیں

آئی ایس پی آر کے مطابق تنخواہوں میں اضافہ نہ لینے کا فیصلہ بھی صرف آفیسرز کا ہے جوانوں پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔


ڈی جی آئی ایس پی آر نے انپے بیان میں کہا ہے انڈین جعلی میڈیا دفاعی بجٹ پر مرضی کے تجزیئے کر رہا ہے۔  ”پاک فوج نے اسی بجٹ کے ساتھ27فروری کو بھر پور جواب دیا تھا۔ ہم جواب دینے کی پوری اہلیت اور صلاحیت رکھتے ہیں۔“
 

انہوں نے ٹویٹ کیا ہے کہ ”انڈیا یہ نہ بھولے ہم وہی ہیں جنہوں نے اسی دفاعی بجٹ کے ساتھ27فروری کا آپریشن کیا تھا۔افواج پاکستان کے پیچھے پوری قوم کھڑی ہے۔بجٹ اہم نہیں،عزم اور حوصلہ اہمیت رکھتا ہے۔“

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے