دفاعی بجٹ میں اضافہ نہ لینا احسان نہیں
پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ فوج نے دفاعی بجٹ میں سالانہ اضافے نہ لینے کا فیصلے کیا تاہم یہ اقدام قوم پر احسان نہیں۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یہ بات لائن آف کنٹرول پر تعینات جوانوں کے ساتھ عید کے دن ملاقات کے موقع پر کہی۔
اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ملک کی فوج نے دفاعی بجٹ میں اضافہ نہ کرنے کا رضاکارانہ فیصلہ کیا ہے۔
سوشل میڈیا سائٹ ٹوئٹر پر عمران خان نے لکھا ہے کہ ”ہماری قومی سلامتی کو درپیش گونا گوں چیلنجز کے باوجود افوجِ پاکستان کا آئندہ مالی سال کے دفاعی اخراجات میں رضاکارانہ کمی کا فیصلہ قابل تحسین ہے۔“
انہوں نے کہا ہے کہ اس بچت کے نتیجے میں میسر آنے والا سرمایہ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع اور بلوچستان کی تعمیر و ترقی میں صرف کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ پاکستان میں انتہائی مشکل معاشی صورتحال کے دوران اگلے ہفتے آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کیا جائے گا۔
پاکستان میں ملک کے دفاعی بجٹ پر بحث نہیں کی جاتی اور اس حوالے سے سوال کرنے والوں کی حب الوطنی کو مشکوک نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔
دریں اثنا آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لائن آف کنٹرول پر تعینات جوانوں کے ساتھ عید کا دن گزارا۔
اس موقع پر جنرل قمر جاوید باجوہ نے جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے دفاعی بجٹ میں سالانہ اضافے نہ لینے کا فیصلے سے متعلق کہا کہ یہ اقدام قوم پر احسان نہیں۔ ”ہم ایک ہیں اور یہ اقدام ہر قسم کے حالات میں یکجہتی کے عزم کا اعادہ ہے۔“
آرمی چیف کا کہنا تھاکہ بجٹ کٹوتی کو دفاعی صلاحیت اور جوانوں کے معیار زندگی پر اثرانداز کئے بغیر آنے والے مالی سال میں دیگر امور میں ایڈجسٹمنٹ سے پورا کیا جائے گا۔
پاکستان کے گذشتہ برس کے دفاعی بجٹ کے لیے 11 سو ارب سے زائد کی رقم مختص کی گئی تھی تاہم عملی طور پر اضافی اخراجات کی وجہ سے یہ رقم 16 سو ارب سے تجاوز کر گئی تھی۔
وزیراعظم عمران خان کے دفاعی بجٹ کے حوالے سے ٹویٹ پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر اکثر صارفین نے فوج کے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے تاہم بعض صارفین کے مطابق یہ فیصلہ آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکج کے حصول کے لیے کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق تنخواہوں میں اضافہ نہ لینے کا فیصلہ بھی صرف آفیسرز کا ہے جوانوں پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے انپے بیان میں کہا ہے انڈین جعلی میڈیا دفاعی بجٹ پر مرضی کے تجزیئے کر رہا ہے۔ ”پاک فوج نے اسی بجٹ کے ساتھ27فروری کو بھر پور جواب دیا تھا۔ ہم جواب دینے کی پوری اہلیت اور صلاحیت رکھتے ہیں۔“
انہوں نے ٹویٹ کیا ہے کہ ”انڈیا یہ نہ بھولے ہم وہی ہیں جنہوں نے اسی دفاعی بجٹ کے ساتھ27فروری کا آپریشن کیا تھا۔افواج پاکستان کے پیچھے پوری قوم کھڑی ہے۔بجٹ اہم نہیں،عزم اور حوصلہ اہمیت رکھتا ہے۔“

