کیا اسحاق ڈار کی واپسی ممکن ہے؟
پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت کے وزرا اور مشیر مسلسل یہ دعوی کر رہے ہیں کہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو برطانیہ سے پاکستان منتقل کرنے کے لیے معاہدے کی یادداشت پر دستخط ہوچکے ہیں اور اب عنقریب ان کو وطن واپس لایا جائے گا تاہم برطانوی وزیر خارجہ کی اپنے پاکستانی ہم منصب کے ساتھ بدھ کو لندن میں پریس کانفرنس کے بعد نئے سوال اٹھ گئے ہیں۔
پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے برطانوی وزیر خارجہ جیرمی ہنٹ نے ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ ایسا کوئی معاہدہ نہیں کر رہا جس میں سیاسی محرکات پر کسی ملزم کیا جائے۔
اس بیان کو پاکستان کی حکومت کے لیے دھچکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان میں احتساب کے بارے میں وزیراعظم کے شہزاد اکبر نے گذشتہ دنوں ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ برطانیہ میں مقیم سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی پاکستان حوالگی کے لیے دونوں ملکوں کے مابین مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوئے ہیں۔
صحافی مرتضی علی شاہ نے برطانوی وزیرخارجہ سے پوچھا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان ملزمان کی حوالگی کے معاہدے میں برطانیہ کیسے یقینی بنائے گا کہ اسے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
اس سوال کے جواب میں برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’یہ بہت واضح ہے کہ برطانوی حکومت کے دستخط کردہ کسی معاہدے میں سیاسی محرکات پر (ملزمان کی) حوالگی نہیں ہو گی۔‘

ان کے ساتھ کھڑے پاکستانی وزیر خارجہ نے فوری طور پر کہا کہ پاکستان (ملزمان کی) حوالگی کے اس معاہدے کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہتا۔
خیال رہے کہ برطانوی حکومت ان ملزمان کو کسی ملک کے حوالے نہیں کرتی جن کو سزائے موت دیے جانے کا خدشہ ہو۔
شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان سزائے موت کے حوالے سے بھی قانون میں ترمیم کر رہا ہے تاکہ برطانیہ کے ساتھ ملزمان کی حوالگی کے معاہدے میں رکاوٹ دور کی جا سکے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کی ملاقات اور مشترکہ پریس کانفرنس پر ایک بیان جاری کیا ہے۔
اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دونوں کی ملاقات میں کرپشن اور منی لانڈرنگ کے انسداد، دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام اور ایف اے ٹی ایف کے تحت کیے گئے اقدامات پر بھی گفتگو ہوئی۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ نے پاکستان کے ساتھ برآمدات کے حجم کو 40 کروڑ پاونڈز سے بڑھا کر ایک ارب پاونڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

