پاکستان پاکستان24

سینیٹ میں پارٹی پوزیشن کیا ہے؟

جون 28, 2019

سینیٹ میں پارٹی پوزیشن کیا ہے؟

نوشین یوسف ۔ صحافی

پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے پارلیمنٹ کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے چیئرمین کو ان کے عہدے سے ہٹانے اور نیا چیئرمین لانے پر اتفاق کیا ہے۔

قانون اور قواعد کے مطابق چئیرمین سینیٹ کو عہدے سے ہٹانے کے لیے قرادداد پر رائے شماری خفیہ ہو گی۔ موجودہ سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں کے پاس 67 اور حکومتی بنچز کے پاس 36 سینٹرز موجود ہیں۔

صادق سنجرانی کو گذشتہ برس پیپلز پارٹی نے بلوچستان میں نئی ابھرنے والی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی اور آزاد سینیٹرز کے ساتھ مل کر چیئرمین منتخب کرایا تھا۔

اس وقت مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی کو رضا ربانی کو چیئرمین بنانے کی پیش کش کی تھی تاہم سابق صدر آصف زرداری نے اسے قبول نہیں کیا۔

بدھ کو اپوزیشن جماعتوں کی کل جماعتی کانفرنس میں طے پا چکا ہے کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو عہدے سے ہٹایا جائے گا اور اس کے لیے ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی ۔

سینیٹ کے قواعد و ضوابط کی شق 12 کے مطابق ایوان کے کُل ارکان کے ایک چوتھائی ممبرز یعنی 26 یا زیادہ اراکین سیکریٹری سینیٹ کے پاس چئیرمین سینیٹ کو عہدے سے ہٹانے کی قرارداد پیش کرنے کی تحریک جمع کرائیں گے۔ اس پر سیکریٹری کی طرف سے تمام ارکان کو نوٹس جاری کیا جائے گا۔

قواعد کے مطابق نوٹس جاری ہونے کے 7 روز بعد پہلے ورکنگ دن قرارداد پیش کرنے کی تحریک کو سینیٹ اجلاس میں واحد ایجنڈا آئٹم کے طور پر شامل کیا جائے گا۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین سینیٹ نہیں کرے گا۔

محرک ممبرز قرارداد پیش کرنے کی تحریک پیش کریں گے۔ اس تحریک منظوری کے لیے 26 سینیٹرز کی حمایت درکار ہو گی۔ تحریک کے حق میں ایک کم از کم 26 ارکان کی حمایت آنے کے بعد قرارداد پیش کرنے کی اجازت مل جائے گی۔ محرک ممبر کو 15 منٹ قرارداد پر بولنے کی اجازت ہو گی۔

چیئرمین سینیٹ کو 30 منٹ تک بات کرنے دی جائے گی۔ تحریک پیش کرنے کی اجازت کے بعد قرارداد پر خفیہ رائے شماری ہو گی، اگر اکثریت نے ہٹانے کا فیصلہ دے دیا تو چیئرمین سینیٹ عہدے پر نہیں رہے گا اور بعد میں نئے چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ہو گا۔

موجودہ سینیٹ میں پارٹی پوزیشن کے مطابق اس وقت 104 کے ایوان میں 103 ارکان ہیں۔ حلف نہ اٹھانے والے اسحاق ڈار کے بغیر مسلم لیگ ن کے ساتھ 30 سینیٹرز ہیں، ان میں 17 مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر جیتے تھے باقی 13 آزاد حیثیت سے جیتے ہوئے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ 21، جمیعت علماء اسلام ف کے 4، جماعت اسلامی کے 2، اے این پی کا 1، نیشنل پارٹی کے 5 اور پختوانخوا ملی عوامی پارٹی کے ساتھ 4 سینیٹرز ہیں۔ یوں سینیٹ میں اپوزیشن کے67 سینیٹرز ہیں۔

حکومت بنچز پر پاکستان تحریک انصاف کے 14، ایم کیو ایم کے 5، فاٹا کے 7، مسلم لیگ فنکشنل کا 1، بی این پی مینگل کا 1، اور سینیٹر صادق سنجرانی سمیت بلوچستان عوامی پارٹی کے 8 سینیٹرز ہیں۔ یوں حکومت کو 36 ارکان سینیٹ کی حمایت حاصل ہے۔

اگر صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی تو نئے چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے شیڈول جاری ہوگا اور یہ انتخاب بھی خفیہ رائے شماری سے ہو گا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے