پاکستان پاکستان24

’حکومت مجھ سے این آر او مانگنے آئی‘

جولائی 25, 2019

’حکومت مجھ سے این آر او مانگنے آئی‘

کراچی کے باغ جناح میں متحدہ اپوزیشن کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپیلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے  کہا ہے کہ اپوزیشن نے سلیکٹڈ حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوریت خطرے میں ہے وفاق پر حملے ہورہے ہیں کوئی ایک جماعت یا لیڈر پاکستان کے مسائل اکیلے حل نہیں کر سکتی ہے۔

’25 جولائی پاکستان کی تاریخ میں ایک بدترین اور ساہ ترین دن ہے۔ وہ اس لیے کہ اس وقت ملک میں جمہوریت، انسانی حقوق، صحافت، صحافی اور غریب نشانے پر ہیں۔‘

ادھر کوئٹہ کے ایوب سٹیڈیم میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے مشترکہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ وہ ملک کے محترم اداروں سے گزارش کرنا چاہتی ہیں کہ آپ عمران خان کے ادارے نہیں بلکہ ملک کے ادارے ہیں بلوچستان، سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے ادارے ہیں۔ ’آپ آگے بڑھیے اور عوام کا ساتھ دیں۔‘

مسلم لیگ ن کی نائب صدر نے اداروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عوام آپ کی عزت کرنا چاہتی ہے۔ ’ریاست ماں کی جیسی ہوتی ہے اور ریاستی اداروں کو بھی ماں باپ کی طرح ہونا چاہیے۔

 مریم نواز کا کہنا تھا کہ آج بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخواہ اداروں  سے ناراض ہے۔ ’اس لیے آگے آئیے انہیں سینے سے لگائیے اور ووٹ کو عزت دیں۔‘ انہوں نے  کہا کہ وہ آج نوز شریف کا مقدمہ بلوچستان کے عوام کے سامنے رکھنے آئی ہیں۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پشتونخوامیپ کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اس ملک کو آئین نے اکٹھا کر رکھا ہے۔ ’آئین میں ہر ادارے کا حد اور فریم ورک مقرر ہے۔ ایک سپاہی بھی جب آئین کے تحت حلف اٹھاتا ہے تو کہتا ہے میں سیاست میں مداخلت نہیں کروں گا۔‘

پشاور میں متحدہ اپوزیشن کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کر کے کہا کہ ’کل آپ کے لوگ مجھ سے این آر او مانگنے آئے تھے۔‘

کراچی میں بلاول نے کہا کہ ’یہ کون سا الیکشن ہے کہ پہلے پارٹیاں توڑو اور پھر وہاں سے بندے لاکر ایک ٹوکری میں ڈال دو اور اپر اپنا بندہ بٹھا دو۔ اس کے باوجود بھی مرضی کے نتائج نہ ملے تو اپوزیشن پارٹیوں کی مرضی کے خلاف فوجی نوجوان پولنگ اسٹیشن کے اندر بٹھائے جائیں، اور آر ٹی ایس جام کیا جائے اور پولنگ ایجنٹ نکال دیے جائے اور نتائج تین دن تک نہ دیے جائیں۔‘

بلاول نے کہا کہ یہ الیکشن نہیں سلیکشن تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران نے خود کہا تھا کہ مجھے چھ مہینے دے دیں اس کے بعد ہر چیز کا میں ذمہ دار ہوں۔ ’ہم  نے انہیں پورا ایک سال دیا۔‘

بلاول نے کہا کہ ’سلیکٹڈ حکومت‘ اور ’سلیکٹرز‘ کے خلاف بغاوت کرنا پڑے گا۔  

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے